غزل 11

اشعار 7

جہاں پہنچ کے قدم ڈگمگائے ہیں سب کے

اسی مقام سے اب اپنا راستا ہوگا

  • شیئر کیجیے

سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیں

ہر ایک موڑ پہ کچھ لوگ چھوٹ جاتے ہیں

  • شیئر کیجیے

جنہیں یہ فکر نہیں سر رہے رہے نہ رہے

وہ سچ ہی کہتے ہیں جب بولنے پہ آتے ہیں

  • شیئر کیجیے

زمانہ مجھ سے جدا ہو گیا زمانہ ہوا

رہا ہے اب تو بچھڑنے کو مجھ سے تو باقی

  • شیئر کیجیے

امیر کارواں ہے تنگ ہم سے

ہمارا راستا سب سے الگ ہے

  • شیئر کیجیے

کتاب 1

شوّاظ

 

2001

 

مزید دیکھیے

"ادے پور" کے مزید شعرا

  • کنور تانی کنور تانی