Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

عبدالحمید ساقی

عبدالحمید ساقی

غزل 3

 

اشعار 3

اپنی آنکھوں کا سمندر بہہ کے تو خاموش ہے

دل کے اندر کی سلگتی آگ کو ہم کیا کریں

اپنی آنکھوں کا سمندر بہہ کے تو خاموش ہے

دل کے اندر کی سلگتی آگ کو ہم کیا کریں

خودی کی روشنی میں میں نے دیکھا ہے عقیدت کو

خدائی ورنہ آذر کی مری ٹھوکر پہ رکھی تھی

خودی کی روشنی میں میں نے دیکھا ہے عقیدت کو

خدائی ورنہ آذر کی مری ٹھوکر پہ رکھی تھی

بجائے زہراب کس نے ساقی بھرے ہیں امرت سے جام و ساغر

کہ لوگ آب حیات پی کر قضا سے پہلے ہی مر رہے ہیں

 

Recitation

بولیے