Akhtar Nazmi's Photo'

اختر نظمی

1930 - 1997 | گوالیار, انڈیا

اختر نظمی

غزل 8

اشعار 4

وہ زہر دیتا تو سب کی نگہ میں آ جاتا

سو یہ کیا کہ مجھے وقت پہ دوائیں نہ دیں

  • شیئر کیجیے

اب نہیں لوٹ کے آنے والا

گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا

مری طرف سے تو ٹوٹا نہیں کوئی رشتہ

کسی نے توڑ دیا اعتبار ٹوٹ گیا

  • شیئر کیجیے

ناؤ کاغذ کی چھوڑ دی میں نے

اب سمندر کی ذمہ داری ہے

دوہا 9

بھاری بوجھ پہاڑ سا کچھ ہلکا ہو جائے

جب میری چنتا بڑھے ماں سپنے میں آئے

  • شیئر کیجیے

عادت سے لاچار ہے عادت نئی عجیب

جس دن کھایا پیٹ بھر سویا نہیں غریب

  • شیئر کیجیے

چھیڑ چھاڑ کرتا رہا مجھ سے بہت نصیب

میں جیتا ترکیب سے ہارا وہی غریب

  • شیئر کیجیے

کھول دیے کچھ سوچ کر سب پنجروں کے دوار

اب کوئی پنچھی نہیں اڑنے کو تیار

  • شیئر کیجیے

لوٹا گیہوں بیچ کر اپنے گاؤں کسان

بٹیا گڑیا سی لگی پتنی لگی جوان

  • شیئر کیجیے

کتاب 4

 

"گوالیار" کے مزید شعرا

 

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے