Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ameer Imam's Photo'

امیر امام

1984 | سنبھل, انڈیا

ہندوستانی غزل کی نئی نسل کی ایک روشن آواز

ہندوستانی غزل کی نئی نسل کی ایک روشن آواز

امیر امام

غزل 109

نظم 11

اشعار 28

اپنی طرف تو میں بھی نہیں ہوں ابھی تلک

اور اس طرف تمام زمانہ اسی کا ہے

  • شیئر کیجیے

دھوپ میں کون کسے یاد کیا کرتا ہے

پر ترے شہر میں برسات تو ہوتی ہوگی

یہ کار زندگی تھا تو کرنا پڑا مجھے

خود کو سمیٹنے میں بکھرنا پڑا مجھے

جو شام ہوتی ہے ہر روز ہار جاتا ہوں

میں اپنے جسم کی پرچھائیوں سے لڑتے ہوئے

خاموشی کے ناخن سے چھل جایا کرتے ہیں

کوئی پھر ان زخموں پر آوازیں ملتا ہے

کتاب 1

 

تصویری شاعری 2

 

ویڈیو 21

This video is playing from YouTube

آڈیو 10

بن کے سایہ ہی سہی سات تو ہوتی ہوگی

خود کو ہر آرزو کے اس پار کر لیا ہے

شہر میں سارے چراغوں کی ضیا خاموش ہے

Recitation

متعلقہ شعرا

دیگر شعرا کو پڑھیے

 

Recitation

بولیے