Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اظہرنقوی

غزل 13

اشعار 19

شہر گم صم راستے سنسان گھر خاموش ہیں

کیا بلا اتری ہے کیوں دیوار و در خاموش ہیں

رات بھر چاند سے ہوتی رہیں تیری باتیں

رات کھولے ہیں ستاروں نے ترے راز بہت

عجب حیرت ہے اکثر دیکھتا ہے میرے چہرے کو

یہ کس نا آشنا کا آئنے میں عکس رہتا ہے

دکھ سفر کا ہے کہ اپنوں سے بچھڑ جانے کا غم

کیا سبب ہے وقت رخصت ہم سفر خاموش ہیں

کل شجر کی گفتگو سنتے تھے اور حیرت میں تھے

اب پرندے بولتے ہیں اور شجر خاموش ہیں

کتاب 2

 

"اسلام آباد" کے مزید شعرا

Recitation

بولیے