عزم شاکری

غزل 23

اشعار 13

آج کی رات دوالی ہے دیے روشن ہیں

آج کی رات یہ لگتا ہے میں سو سکتا ہوں

  • شیئر کیجیے

وقت رخصت آب دیدہ آپ کیوں ہیں

جسم سے تو جاں ہماری جا رہی ہے

میں نے اک شہر ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا

لیکن اس شہر کو آنکھوں میں بسا لایا ہوں

آنسوؤں سے لکھ رہے ہیں بے بسی کی داستاں

لگ رہا ہے درد کی تصویر بن جائیں گے ہم

زخم جو تم نے دیا وہ اس لیے رکھا ہرا

زندگی میں کیا بچے گا زخم بھر جانے کے بعد

کتاب 3

برف

 

2002

محراب عشق

 

 

سرخاب

 

2008

 

متعلقہ شعرا

  • نغیم اختر خادمی نغیم اختر خادمی ہم عصر

"کاس گنج" کے مزید شعرا

  • نادم ندیم نادم ندیم