noImage

بیخود بدایونی

1857 - 1912

نامور کلاسیکی شاعر، داغ دہلوی کے شاگرد، مجسٹریٹ کے عہدے پر فائز رہے

نامور کلاسیکی شاعر، داغ دہلوی کے شاگرد، مجسٹریٹ کے عہدے پر فائز رہے

بیخود بدایونی

غزل 18

اشعار 15

حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں

عید ہے اور ہم کو عید نہیں

ان کی حسرت بھی نہیں میں بھی نہیں دل بھی نہیں

اب تو بیخودؔ ہے یہ عالم مری تنہائی کا

  • شیئر کیجیے

کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا

ہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا

اپنی خوئے وفا سے ڈرتا ہوں

عاشقی بندگی نہ ہو جائے

  • شیئر کیجیے

بیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں

کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے

  • شیئر کیجیے

کتاب 3

بیخود بدایونی

حیات اور ادبی خدمات

1995

انتخاب کلام بیخود بدایونی

 

1990

کلام بیخود بدایونی

مرات الخیال