Elizabeth Kurian Mona's Photo'

ایلزبتھ کورین مونا

1949 | حیدر آباد, ہندوستان

کتاب 4

حسن غزل

 

2014

کہکشاں

 

2013

محبت کے سائے

 

2014

ذوق جستجو

 

2016

 

تصویری شاعری 1

ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت رات تاریک سہی ایک ستارا ہے بہت درد اٹھتا ہے جگر میں کسی طوفاں کی طرح تب تری یادوں کے دامن کا کنارہ ہے بہت ظلم جس نے کئے وہ شخص بنا ہے منصف ظلم پر ظلم نے مظلوم کو مارا ہے بہت راہ دشوار ہے پگ پگ پہ ہیں کانٹے لیکن راہ_رو کے لئے منزل کا اشارہ ہے بہت اس کو پانے کی تمنا ہی رہی جیون بھر دور سے ہم نے مسرت کو نہارا ہے بہت فاصلے بڑھتے گئے عمر بھی ڈھلتی ہی گئی وصل کا خواب لئے وقت گزارا ہے بہت ہونٹ خاموش تھے اک آہ بھی ہم بھر نہ سکے بارہا دل نے مگر تم کو پکارا ہے بہت جھوٹی تعریف سے لگتا ہے بہت ڈر موناؔ میٹھی باتوں نے ہی شیشے میں اتارا ہے بہت

 

"حیدر آباد" کے مزید شعرا

  • میر نقی علی خاں ثاقب میر نقی علی خاں ثاقب
  • فیض الحسن خیال فیض الحسن خیال
  • فاروق بخشی فاروق بخشی
  • سید نظیر حسن سخا دہلوی سید نظیر حسن سخا دہلوی
  • اطیب اعجاز اطیب اعجاز
  • فروغ حیدرآبادی فروغ حیدرآبادی
  • برق حیدرآبادی برق حیدرآبادی
  • صفیہ اریب صفیہ اریب
  • راجہ کرن پرشاد کرن راجہ کرن پرشاد کرن
  • رؤف رحیم رؤف رحیم