noImage

فنا بلند شہری

فنا بلند شہری استاد قمر جلالوی کے شاگرد تھے

فنا بلند شہری استاد قمر جلالوی کے شاگرد تھے

فنا بلند شہری

غزل 45

اشعار 5

اس جہاں میں نہیں کوئی اہل وفا

اے فناؔ اس جہاں سے کنارا کرو

  • شیئر کیجیے

آغاز تو اچھا تھا فناؔ دن بھی بھلے تھے

پھر راس مجھے عشق کا انجام نہ آیا

  • شیئر کیجیے

کیا بھول گئے ہیں وہ مجھے پوچھنا قاصد

نامہ کوئی مدت سے مرے کام نہ آیا

  • شیئر کیجیے

اٹھا پردہ تو محشر بھی اٹھے گا دیدۂ دل میں

قیامت چھپ کے بیٹھی ہے نقاب روئے قاتل میں

  • شیئر کیجیے

اے فناؔ میری میت پہ کہتے ہیں وہ

آپ نے اپنا وعدہ وفا کر دیا

  • شیئر کیجیے

تصویری شاعری 1

جو مٹا ہے تیرے جمال پر وہ ہر ایک غم سے گزر گیا ہوئیں جس پہ تیری نوازشیں وہ بہار بن کے سنور گیا تری مست آنکھ نے اے صنم مجھے کیا نظر سے پلا دیا کہ شراب_خانے اجڑ گئے جو نشہ چڑھا تھا اتر گیا ترا عشق ہے مری زندگی ترے حسن پہ میں نثار ہوں ترا رنگ آنکھ میں بس گیا ترا نور دل میں اتر گیا کہ خرد کی فتنہ_گری وہی لٹے ہوش چھا گئی بے_خودی وہ نگاہ_مست جہاں اٹھی مرا جام_زندگی بھر گیا در_یار تو بھی عجیب ہے ہے عجیب تیرا خیال بھی رہی خم جبین_نیاز بھی مجھے بے_نیاز بھی کر گیا ترے دید سے اے صنم چمن آرزؤں کا مہک اٹھا ترے حسن کی جو ہوا چلی تو جنوں کا رنگ نکھر گیا مجھے سب خبر ہے مرے صنم کہ رہ_فناؔ میں حیات ہے اسے مل گئی نئی زندگی ترے آستاں پہ جو مر گیا