فیروز ناطق خسرو کے افسانے
صبح کا بھولا
فتو کا مسئلہ بھی وہی تھا، یعنی کمانے والا ایک اور کھانے والے پانچ۔ فتو، اس کی بیوی، دو بچیاں اور ایک لڑکا سردار اں میٹرک کا امتحان دے رہی تھی۔باقی بچے چھوٹی جماعتوں میں تھے۔ پاک فضائیہ میں جہاں اور بہت سے لوگ ملک و قوم کی ترقی کے لئے رات دن کوشاں رہتے
صبح کا بھولا
فتو کا مسئلہ بھی وہی تھا، یعنی کمانے والا ایک اور کھانے والے پانچ۔ فتو، اس کی بیوی، دو بچیاں اور ایک لڑکا سردار اں میٹرک کا امتحان دے رہی تھی۔باقی بچے چھوٹی جماعتوں میں تھے۔ پاک فضائیہ میں جہاں اور بہت سے لوگ ملک و قوم کی ترقی کے لئے رات دن کوشاں رہتے
بلیک آؤٹ
محلے کے بڑے بوڑھے بتاتے تھے کہ جس رات وہ پیدا ہوا تھا توبڑا طوفان آیا ہوا تھا، مسلسل ایک ہفتہ تک بارش ہوتی رہی۔ گلیوں میں کمر کمر پانی کھڑا ہو گیا۔ بڑے بڑے تناور درخت اپنی جگہ چھوڑ بیٹھے۔ بجلی کے کھمبے زمین بوس ہو گئے تھے۔ گہرے سیاہ بادلوں کی وجہ سے
بلیک آؤٹ
محلے کے بڑے بوڑھے بتاتے تھے کہ جس رات وہ پیدا ہوا تھا توبڑا طوفان آیا ہوا تھا، مسلسل ایک ہفتہ تک بارش ہوتی رہی۔ گلیوں میں کمر کمر پانی کھڑا ہو گیا۔ بڑے بڑے تناور درخت اپنی جگہ چھوڑ بیٹھے۔ بجلی کے کھمبے زمین بوس ہو گئے تھے۔ گہرے سیاہ بادلوں کی وجہ سے
کرم سنگھ
میں کرم دین (کرمو) کی قبر کے سہارے ٹیک لگائے ماضی کے دھندلکوں میں نجانے کیا تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہند و پاک کی تقسیم سے قبل میں اور کرم سنگھ ایک ہی گاؤں میں رہتے تھے۔۔۔ پنجاب کا یہ چھوٹا سا گاؤں ہماری جنت تھا۔ بچپن لڑکپن اور جوانی کی سنہری
کرم سنگھ
میں کرم دین (کرمو) کی قبر کے سہارے ٹیک لگائے ماضی کے دھندلکوں میں نجانے کیا تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہند و پاک کی تقسیم سے قبل میں اور کرم سنگھ ایک ہی گاؤں میں رہتے تھے۔۔۔ پنجاب کا یہ چھوٹا سا گاؤں ہماری جنت تھا۔ بچپن لڑکپن اور جوانی کی سنہری
نئی عورت
محلے بھر میں اس کی مخالفت آج کل روزوں پر تھی۔ بزرگ اس کا نام آتے ہی لاحول پڑھتے تھے۔ آتے جاتے کہیں نظر پڑ جاتی تو کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے گزر جاتے۔ لونڈے لباڑے دن بھر گلی میں شور و غل مچائے رکھتے، نئے نئے کھیل ایجاد کئے جاتے، مگر جہاں اسے آتے دیکھا
نئی عورت
محلے بھر میں اس کی مخالفت آج کل روزوں پر تھی۔ بزرگ اس کا نام آتے ہی لاحول پڑھتے تھے۔ آتے جاتے کہیں نظر پڑ جاتی تو کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے گزر جاتے۔ لونڈے لباڑے دن بھر گلی میں شور و غل مچائے رکھتے، نئے نئے کھیل ایجاد کئے جاتے، مگر جہاں اسے آتے دیکھا