Iftikhar Arif's Photo'

افتخار عارف

1940 | اسلام آباد, پاکستان

پاکستان کے اہم ترین شاعروں میں نمایاں، اپنی تہذیبی رومانیت کے لیے معروف

پاکستان کے اہم ترین شاعروں میں نمایاں، اپنی تہذیبی رومانیت کے لیے معروف

غزل

امید_و_بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں

افتخار عارف

بکھر جائیں_گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا

افتخار عارف

تار_شبنم کی طرح صورت_خس ٹوٹتی ہے

افتخار عارف

جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں

افتخار عارف

دکھ اور طرح کے ہیں دعا اور طرح کی

افتخار عارف

ستارہ_وار جلے پھر بجھا دئے گئے ہم

افتخار عارف

سر_بام_ہجر دیا بجھا تو خبر ہوئی

افتخار عارف

سمندر اس قدر شوریدہ_سر کیوں لگ رہا ہے

افتخار عارف

شکستہ_پر جنوں کو آزمائیں_گے نہیں کیا

افتخار عارف

شہر_گل کے خس_و_خاشاک سے خوف آتا ہے

افتخار عارف

غم_جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ہوئے

افتخار عارف

غیروں سے داد_جور_و_جفا لی گئی تو کیا

افتخار عارف

فضا میں وحشت_سنگ_و_سناں کے ہوتے ہوئے

افتخار عارف

گلی_کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے_گا

افتخار عارف

مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے

افتخار عارف

ملک_سخن میں درد کی دولت کو کیا ہوا

افتخار عارف

منظر سے ہیں نہ دیدۂ_بینا کے دم سے ہیں

افتخار عارف

میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے

افتخار عارف

وفا کی خیر مناتا ہوں بے_وفائی میں بھی

افتخار عارف

یہ اب کھلا کہ کوئی بھی منظر مرا نہ تھا

افتخار عارف

یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں

افتخار عارف

یہ قرض_کج_کلہی کب تلک ادا ہوگا

افتخار عارف

یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے

افتخار عارف

اب بھی توہین_اطاعت نہیں ہوگی ہم سے

افتخار عارف

امید_و_بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں

نعمان شوق

انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے

افتخار عارف

بستی بھی سمندر بھی بیاباں بھی مرا ہے

افتخار عارف

تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا

افتخار عارف

حامی بھی نہ تھے منکر_غالبؔ بھی نہیں تھے

افتخار عارف

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے

افتخار عارف

خواب_دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں

افتخار عارف

دیار_نور میں تیرہ_شبوں کا ساتھی ہو

افتخار عارف

ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میں

افتخار عارف

روش میں گردش_سیارگاں سے اچھی ہے

نعمان شوق

ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے_گا

افتخار عارف

سخن_حق کو فضیلت نہیں ملنے والی

افتخار عارف

سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں

افتخار عارف

عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا

افتخار عارف

عذاب_وحشت_جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی

افتخار عارف

غم_جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ہوئے

افتخار عارف

مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے

نعمان شوق

وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے

نعمان شوق

کچھ بھی نہیں کہیں نہیں خواب کے اختیار میں

نعمان شوق

کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں

افتخار عارف

کوئی جنوں کوئی سودا نہ سر میں رکھا جائے

نعمان شوق

کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا

افتخار عارف

کہیں سے کوئی حرف_معتبر شاید نہ آئے

نعمان شوق

ہجر کی دھوپ میں چھاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

افتخار عارف

ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں

نعمان شوق

یہ بستی جانی_پہچانی بہت ہے

افتخار عارف

یہ نقش ہم جو سر_لوح_جاں بناتے ہیں

نعمان شوق

اب بھی توہین_اطاعت نہیں ہوگی ہم سے

نعمان شوق

انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے

نعمان شوق

تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا

نعمان شوق

حامی بھی نہ تھے منکر_غالبؔ بھی نہیں تھے

نعمان شوق

دیار_نور میں تیرہ_شبوں کا ساتھی ہو

نعمان شوق

سخن_حق کو فضیلت نہیں ملنے والی

نعمان شوق

عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا

نعمان شوق

عذاب_وحشت_جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی

نعمان شوق

غم_جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ہوئے

نعمان شوق

کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں

نعمان شوق

کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا

نعمان شوق

نظم

آخری آدمی کا رجز

افتخار عارف

ابوطالب کے بیٹے

افتخار عارف

انتباہ

افتخار عارف

اور ہوا چپ رہی

افتخار عارف

ایک اداس شام کے نام

افتخار عارف

ایک تھا راجہ چھوٹا سا

نعمان شوق

ایک خواب کی دوری پر

افتخار عارف

ایک سوال

افتخار عارف

بارہواں کھلاڑی

فہد حسین

بن_باس

افتخار عارف

بیلنس_شیٹ

افتخار عارف

پرانے دشمن

افتخار عارف

شہر علم کے دروازے پر

افتخار عارف

شہر_آشوب

افتخار عارف

صحرا میں ایک شام

افتخار عارف

قصہ ایک بسنت کا

نعمان شوق

گمنام سپاہی کی قبر پر

افتخار عارف

مکالمہ

افتخار عارف

ابھی کچھ دن لگیں_گے

افتخار عارف

ایک رخ

افتخار عارف

بارہواں کھلاڑی

افتخار عارف

بد_شگونی

افتخار عارف

محبت کی ایک نظم

افتخار عارف

کچھ دیر پہلے نیند سے

نعمان شوق

یقین سے یادوں کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا

نعمان شوق

ابھی کچھ دن لگیں_گے

نعمان شوق

بد_شگونی

نعمان شوق

محبت کی ایک نظم

نعمان شوق

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Added to your favorites

Removed from your favorites