Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
imtiyaz Khan's Photo'

امتیاز خان

1989 | گڑگاؤں, انڈیا

معاصر نوجوان شاعروں میں نمایاں، خوبصورت الفاظ میں نازک اور انوکھے احساسات کی شاعری کے لیے مشہور

معاصر نوجوان شاعروں میں نمایاں، خوبصورت الفاظ میں نازک اور انوکھے احساسات کی شاعری کے لیے مشہور

امتیاز خان کا تعارف

پیدائش : 20 May 1989 | میوات, ہریانہ

ہم کو اکثر یہ خیال آتا ہے اس کو دیکھ کر

یہ ستارہ کیسے غلطی سے زمیں پر رہ گیا

امتیاز خان 20 مئی 1989 کو میوات، ہریانہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن میں ہی حاصل کی،  اس کے بعد آپ نے کمپیوٹر سائنس انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ آجکل آپ دہلی میٹرو کارپوریشن میں بطور انجینئر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور دہلی ہی میں مقیم ہیں۔

دوران تعلیم دہلی کی ادبی فضا نے آپ کے ادبی ذوق کو بالیدگی عطا کی اور مشق سخن کی جانب متوجہ کیا۔ جہاں تک شاعری کا تعلق ہے آپ کی شاعری میں وسعت تخیل بھی ہے اور لفظوں کی تراکیب کا فنکارانہ استعمال بھی۔ آپ کے اشعار میں بعض خیالات میں اتنی گہرائی و گیرائی ہوتی ہے کہ ان اشعار کی معنویت کے دریچے  ہر بار پڑھنے پر مختلف انداز میں وا ہوتے ہیں۔ آپ نے صنف غزل اور نظم دونوں کو ترسیل فکر کا ذریعہ بنایا ہے۔آپ خوش اخلاق اور خوش طبیعت شخص ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت حساس بھی ہیں اور اس حساسیت کا اظہار آپ کی شاعری میں جگہ جگہ نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔

امتیاز خان کی غزل زندگی کے جذبات اور احساسات کو بہترین طریقے سے پیش کرتی ہے۔ ان کی شاعری میں تخیل کی وسعت اور الفاظ کا مہارت سے استعمال ہوتا ہے۔ ہر اشعار میں گہرائی اور اہمیت کا ایسا رنگ ہوتا ہے جو قاری کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ امتیاز خان نے غزل کی روح کو سمجھ کر، اس میں اپنے جذبات کی نئی شکل پیش کی ہے۔ ان کی غزلیں صرف الفاظ کا خوبصورت اظہار نہیں، بلکہ ان میں ایک گہری سوچ اور تفتیش کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ ان کی شاعری ہر بار نئے رنگ اور طریقے سے سمجھی جاتی ہے، جو ہر بار پڑھنے پر نیا منظر کھولتی ہے۔

Recitation

بولیے