noImage

انعام اللہ خاں یقین

1727 - 1755 | دلی, ہندوستان

میر تقی میرؔ کے ہم عصر اور ان کے حریف کے طور پر مشہور۔ انہیں ان کے والد نے قتل کیا

میر تقی میرؔ کے ہم عصر اور ان کے حریف کے طور پر مشہور۔ انہیں ان کے والد نے قتل کیا

انعام اللہ خاں یقین

غزل 33

اشعار 13

چشم تر پر گر نہیں کرتا ہوا پر رحم کر

دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاں

کیا بدن ہوگا کہ جس کے کھولتے جامے کا بند

برگ گل کی طرح ہر ناخن معطر ہو گیا

  • شیئر کیجیے

حق مجھے باطل آشنا نہ کرے

میں بتوں سے پھروں خدا نہ کرے

دوستی بد بلا ہے اس میں خدا

کسی دشمن کو مبتلا نہ کرے

خلوت ہو اور شراب ہو معشوق سامنے

زاہد تجھے قسم ہے جو تو ہو تو کیا کرے

  • شیئر کیجیے

کتاب 6

دیوان یقین

 

 

دیوان یقین

 

1930

دیوان یقین دہلوی

 

1995

انعام اللہ خاں یقین : عہد اور شاعری

 

2007

انتخاب دیوان

 

 

انتخاب کلام انعام اللہ خاں یقین

 

1991

 

آڈیو 7

اس قدر غرق لہو میں یہ دل_زار نہ تھا

بہار آئی ہے کیا کیا چاک جیب_پیرہن کرتے

حق مجھے باطل_آشنا نہ کرے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

"دلی" کے مزید شعرا

  • شاہ نصیر شاہ نصیر
  • داغؔ دہلوی داغؔ دہلوی
  • آبرو شاہ مبارک آبرو شاہ مبارک
  • بیخود دہلوی بیخود دہلوی
  • راجیندر منچندا بانی راجیندر منچندا بانی
  • انیس الرحمان انیس الرحمان
  • محمد رفیع سودا محمد رفیع سودا
  • بہادر شاہ ظفر بہادر شاہ ظفر
  • شیخ ابراہیم ذوقؔ شیخ ابراہیم ذوقؔ
  • مظہر امام مظہر امام