Jalal Lakhnavi's Photo'

جلالؔ لکھنوی

1832 - 1909 | لکھنؤ, ہندوستان

مابعد کلاسکی شاعر،دبستان لکھنو اور رام پور کے امتزاجی اسلوب کے نمائندہ شاعر

مابعد کلاسکی شاعر،دبستان لکھنو اور رام پور کے امتزاجی اسلوب کے نمائندہ شاعر

جلالؔ لکھنوی

غزل 18

اشعار 11

عشق کی چوٹ کا کچھ دل پہ اثر ہو تو سہی

درد کم ہو یا زیادہ ہو مگر ہو تو سہی

  • شیئر کیجیے

میں نے پوچھا کہ ہے کیا شغل تو ہنس کر بولے

آج کل ہم تیرے مرنے کی دعا کرتے ہیں

  • شیئر کیجیے

اک رات دل جلوں کو یہ عیش وصال دے

پھر چاہے آسمان جہنم میں ڈال دے

  • شیئر کیجیے

جس نے کچھ احساں کیا اک بوجھ سر پر رکھ دیا

سر سے تنکا کیا اتارا سر پہ چھپر رکھ دیا

  • شیئر کیجیے

نہ ہو برہم جو بوسہ بے اجازت لے لیا میں نے

چلو جانے دو بیتابی میں ایسا ہو ہی جاتا ہے

  • شیئر کیجیے

کتاب 10

دیوان سوم

دیوان جلال

1889

گنجینہ زبان اردو

گلشن فیض

1880

گلدستۂ معرفت

دیوان ضامن

1913

کلیات ضامن

 

 

مفید الشعرا

 

1884

نظم نگارین

 

1903

قواعد المنتخب

 

 

رسالہ تذکیر و تانیث

 

 

سرمایہ زبان اردو

 

 

سرمایۂ زبان اردو

تحفۂ سخنوران

 

 

تصویری شاعری 2

عشق کی چوٹ کا کچھ دل پہ اثر ہو تو سہی درد کم ہو یا زیادہ ہو مگر ہو تو سہی

عشق کی چوٹ کا کچھ دل پہ اثر ہو تو سہی درد کم ہو یا زیادہ ہو مگر ہو تو سہی

 

"لکھنؤ" کے مزید شعرا

  • مصحفی غلام ہمدانی مصحفی غلام ہمدانی
  • جرأت قلندر بخش جرأت قلندر بخش
  • حیدر علی آتش حیدر علی آتش
  • امداد علی بحر امداد علی بحر
  • عرفان صدیقی عرفان صدیقی
  • عزیز بانو داراب وفا عزیز بانو داراب وفا
  • ارشد علی خان قلق ارشد علی خان قلق
  • میر انیس میر انیس
  • رند لکھنوی رند لکھنوی
  • ولی اللہ محب ولی اللہ محب