noImage

جلالؔ مانکپوری

اشعار 3

آج تک دل کی آرزو ہے وہی

پھول مرجھا گیا ہے بو ہے وہی

ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیام

اپنے وعدے کو تو کر یاد مجھے یاد نہ کر

  • شیئر کیجیے

کہہ دیں تم سے کون ہیں کیا ہیں کہاں رہتے ہیں ہم

بے خودوں کو اپنے جب تم ہوش میں آنے تو دو

  • شیئر کیجیے