noImage

جلالؔ مانکپوری

اشعار 4

آج تک دل کی آرزو ہے وہی

پھول مرجھا گیا ہے بو ہے وہی

کہہ دیں تم سے کون ہیں کیا ہیں کہاں رہتے ہیں ہم

بے خودوں کو اپنے جب تم ہوش میں آنے تو دو

we will tell you who and what we are and where we stay

let your besotten lovers regain consciousness today

we will tell you who and what we are and where we stay

let your besotten lovers regain consciousness today

  • شیئر کیجیے

ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیام

اپنے وعدے کو تو کر یاد مجھے یاد نہ کر

  • شیئر کیجیے