Kaifi Azmi's Photo'

کیفی اعظمی

1919 - 2002 | ممبئی, ہندوستان

مقبول عام، ممتاز، ترقی پسند شاعر اور فلم نغمہ نگار۔ ہیر رانجھا اور کاغذ کے پھول کے گیتوں کے لئے مشہور

مقبول عام، ممتاز، ترقی پسند شاعر اور فلم نغمہ نگار۔ ہیر رانجھا اور کاغذ کے پھول کے گیتوں کے لئے مشہور

ای- کتاب 22

آخر شب

 

1947

آوارہ سجدے

 

1974

ابلیس کی مجلس شوریٰ

 

1983

جھنکار

 

1944

کیفی اعظمی

عکس اور جہتیں

1992

کیفی اعظمی : فکروفن

 

2005

کیفی اعظمی : شخصیت شاعری اور عہد

 

2005

کیفی اعظمی کلیکشن

 

 

کیفی اعظمی کے ساتھ ایک شام

 

1992

کیفیات

کلیات کیفی اعظمی

2012

تصویری شاعری 12

روح بے_چین ہے اک دل کی اذیت کیا ہے دل ہی شعلہ ہے تو یہ سوز_محبت کیا ہے وہ مجھے بھول گئی اس کی شکایت کیا ہے رنج تو یہ ہے کہ رو رو کے بھلایا ہوگا وہ کہاں اور کہاں کاہش_غم، سوزش_جاں اس کی رنگین نظر اور نقوش_حرماں اس کا احساس_لطیف اور شکست_ارماں طعنہ_زن ایک زمانہ نظر آیا ہوگا جھک گئی ہوگی جواں_سال امنگوں کی جبیں مٹ گئی ہوگی للک، ڈوب گیا ہوگا یقیں چھا گیا ہوگا دھواں، گھوم گئی ہوگی زمیں اپنے پہلے ہی گھروندے کو جو ڈھایا ہوگا دل نے ایسے بھی کچھ افسانے سنائے ہوں_گے اشک آنکھوں نے پئے اور نہ بہائے ہوں_گے بند کمرے میں جو خط میرے جلائے ہوں_گے ایک اک حرف جبیں پر ابھر آیا ہوگا اس نے گھبرا کے نظر لاکھ بچائی ہوگی مٹ کے اک نقش نے سو شکل دکھائی ہوگی میز سے جب مری تصویر ہٹائی ہوگی ہر طرف مجھ کو تڑپتا ہوا پایا ہوگا بے_محل چھیڑ پہ جذبات ابل آئے ہوں_گے غم پشیمان_تبسم میں ڈھل آئے ہوں_گے نام پر میرے جب آنسو نکل آئے ہوں_گے سر نہ کاندھے سے سہیلی کے اٹھایا ہوگا زلف ضد کر کے کسی نے جو ہٹائی ہوگی روٹھے جلووں پہ خزاں اور بھی چھائی ہوگی برق عشووں نے کئی دن نہ گرائی ہوگی رنگ چہرے پہ کئی روز نہ آیا ہوگا

بس اک جھجک ہے یہی حال_دل سنانے میں کہ تیرا ذکر بھی آئے_گا اس فسانے میں

روز بڑھتا ہوں جہاں سے آگے پھر وہیں لوٹ کے آ جاتا ہوں بارہا توڑ چکا ہوں جن کو انہیں دیواروں سے ٹکراتا ہوں روز بستے ہیں کئی شہر نئے روز دھرتی میں سما جاتے ہیں زلزلوں میں تھی ذرا سی گرمی وہ بھی اب روز ہی آ جاتے ہیں جسم سے روح تلک ریت ہی ریت نہ کہیں دھوپ نہ سایہ نہ سراب کتنے ارمان ہیں کس صحرا میں کون رکھتا ہے مزاروں کا حساب نبض بجھتی بھی بھڑکتی بھی ہے دل کا معمول ہے گھبرانا بھی رات اندھیرے نے اندھیرے سے کہا ایک عادت ہے جئے جانا بھی قوس اک رنگ کی ہوتی ہے طلوع ایک ہی چال بھی پیمانے کی گوشے گوشے میں کھڑی ہے مسجد شکل کیا ہو گئی مے_خانے کی کوئی کہتا تھا سمندر ہوں میں اور مری جیب میں قطرہ بھی نہیں خیریت اپنی لکھا کرتا ہوں اب تو تقدیر میں خطرہ بھی نہیں اپنے ہاتھوں کو پڑھا کرتا ہوں کبھی قرآں کبھی گیتا کی طرح چند ریکھاؤں میں سیماؤں میں زندگی قید ہے سیتا کی طرح رام کب لوٹیں_گے معلوم نہیں کاش راون ہی کوئی آ جاتا

بستی میں اپنی ہندو مسلماں جو بس گئے انساں کی شکل دیکھنے کو ہم ترس گئے

اپنی نظر میں بھی تو وہ اپنا نہیں رہا چہرے پہ آدمی کے ہے چہرہ چڑھا ہوا منظر تھا آنکھ بھی تھی تمنائے_دید بھی لیکن کسی نے دید پہ پہرہ بٹھا دیا ایسا کریں کہ سارا سمندر اچھل پڑے کب تک یوں سطح_آب پہ دیکھیں_گے بلبلہ برسوں سے اک مکان میں رہتے ہیں ساتھ ساتھ لیکن ہمارے بیچ زمانوں کا فاصلہ مجمع تھا ڈگڈگی تھی مداری بھی تھا مگر حیرت ہے پھر بھی کوئی تماشا نہیں ہوا آنکھیں بجھی بجھی سی ہیں بازو تھکے تھکے ایسے میں کوئی تیر چلانے کا فائدہ وہ بے_کسی کہ آنکھ کھلی تھی مری مگر ذوق_نظر پہ جبر نے پہرہ بٹھا دیا

روز بڑھتا ہوں جہاں سے آگے پھر وہیں لوٹ کے آ جاتا ہوں بارہا توڑ چکا ہوں جن کو انہیں دیواروں سے ٹکراتا ہوں روز بستے ہیں کئی شہر نئے روز دھرتی میں سما جاتے ہیں زلزلوں میں تھی ذرا سی گرمی وہ بھی اب روز ہی آ جاتے ہیں جسم سے روح تلک ریت ہی ریت نہ کہیں دھوپ نہ سایہ نہ سراب کتنے ارمان ہیں کس صحرا میں کون رکھتا ہے مزاروں کا حساب نبض بجھتی بھی بھڑکتی بھی ہے دل کا معمول ہے گھبرانا بھی رات اندھیرے نے اندھیرے سے کہا ایک عادت ہے جئے جانا بھی قوس اک رنگ کی ہوتی ہے طلوع ایک ہی چال بھی پیمانے کی گوشے گوشے میں کھڑی ہے مسجد شکل کیا ہو گئی مے_خانے کی کوئی کہتا تھا سمندر ہوں میں اور مری جیب میں قطرہ بھی نہیں خیریت اپنی لکھا کرتا ہوں اب تو تقدیر میں خطرہ بھی نہیں اپنے ہاتھوں کو پڑھا کرتا ہوں کبھی قرآں کبھی گیتا کی طرح چند ریکھاؤں میں سیماؤں میں زندگی قید ہے سیتا کی طرح رام کب لوٹیں_گے معلوم نہیں کاش راون ہی کوئی آ جاتا

ویڈیو 48

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
Kaifi Azmi at a mushaira

کیفی اعظمی

Nazm-Aazadi

کیفی اعظمی

Tribute to Guru Dutt by Kaifi Azmi

کیفی اعظمی

Zikr-e-Haq itna mukhasar bhi nahi - Kaifi Azmi

کیفی اعظمی

خار_و_خس تو اٹھیں راستہ تو چلے

کیفی اعظمی

دوسرا بن_باس

رام بن_باس سے جب لوٹ کے گھر میں آئے کیفی اعظمی

زندگی

آج اندھیرا مری نس نس میں اتر جائے_گا کیفی اعظمی

سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانے

کیفی اعظمی

عادت

مدتوں میں اک اندھے کنویں میں اسیر کیفی اعظمی

عورت

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے کیفی اعظمی

مکان

آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے کیفی اعظمی

وہ بھی سراہنے لگے ارباب_فن کے بعد

کیفی اعظمی

وہ بھی سراہنے لگے ارباب_فن کے بعد

کیفی اعظمی

آڈیو 31

خار_و_خس تو اٹھیں راستہ تو چلے

لائی پھر ایک لغزش_مستانہ تیرے شہر میں

پتھر کے خدا وہاں بھی پائے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

شعرا متعلقہ

  • نوشاد علی نوشاد علی ہم عصر
  • راجیندر کرشن راجیندر کرشن ہم عصر
  • جگن ناتھ آزاد جگن ناتھ آزاد ہم عصر
  • احسان دانش احسان دانش ہم عصر
  • ساحر لدھیانوی ساحر لدھیانوی ہم عصر
  • اسرار الحق مجاز اسرار الحق مجاز ہم عصر
  • یزدانی جالندھری یزدانی جالندھری ہم عصر
  • علی سردار جعفری علی سردار جعفری ہم عصر
  • مخدومؔ محی الدین مخدومؔ محی الدین ہم عصر
  • رئیس امروہوی رئیس امروہوی ہم عصر

شعرا کے مزید "ممبئی"

  • عشق اورنگ آبادی عشق اورنگ آبادی
  • مرزا آسمان جاہ انجم مرزا آسمان جاہ انجم
  • عنبر بہرائچی عنبر بہرائچی
  • منور خان غافل منور خان غافل
  • اشرف علی فغاں اشرف علی فغاں
  • مفتی صدرالدین آزردہ مفتی صدرالدین آزردہ
  • مصطفی خاں یکرنگ مصطفی خاں یکرنگ
  • مجروح سلطانپوری مجروح سلطانپوری
  • ساحر لدھیانوی ساحر لدھیانوی
  • شکیل بدایونی شکیل بدایونی