noImage

کامل اختر

کامل اختر

غزل 4

 

اشعار 6

منظروں کی بھیڑ ایسی تو کبھی دیکھی نہ تھی

گاؤں اچھا تھا مگر اس میں کوئی لڑکی نہ تھی

اکثر اسی خیال نے مایوس کر دیا

شاید تمام عمر یوں ہی کاٹنی پڑے

عمر بھر یاد رہا اپنی وفاؤں کی طرح

ایک وہ عہد جسے آپ نے پورا نہ کیا

لمحوں کے تار کھینچتا رہتا تھا رات دن

اک شخص لے گیا مری صدیاں سمیٹ کے

اب تو ہر وقت وہی اتنا رلاتا ہے مجھے

جس کو جاتے ہوئے میں دیکھ کے رو بھی نہ سکا