Khaleel Tanveer's Photo'

خلیل تنویر

1944

غزل 14

اشعار 31

اوروں کی برائی کو نہ دیکھوں وہ نظر دے

ہاں اپنی برائی کو پرکھنے کا ہنر دے

رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئے

حق بات لب پہ آئی تو ہم بے ہنر ہوئے

پرند شاخ پہ تنہا اداس بیٹھا ہے

اڑان بھول گیا مدتوں کی بندش میں

  • شیئر کیجیے

وہ لوگ اپنے آپ میں کتنے عظیم تھے

جو اپنے دشمنوں سے بھی نفرت نہ کر سکے

  • شیئر کیجیے

اب کے سفر میں درد کے پہلو عجیب ہیں

جو لوگ ہم خیال نہ تھے ہم سفر ہوئے

کتاب 2

گل لاجورد

 

2005

شمارہ نمبر-001

2010

 

مزید دیکھیے