noImage

خالدہ عظمی

خالدہ عظمی

غزل 7

اشعار 8

چلے آتے ہیں بے موسم کی بارش کی طرح آنسو

بسا اوقات رونے کا سبب کچھ بھی نہیں ہوتا

ادھر ادھر کے سنائے ہزار افسانے

دلوں کی بات سنانے کا حوصلہ نہ ہوا

بسی ہے سوکھے گلابوں کی بات سانسوں میں

کوئی خیال کسی یاد کے حصار میں ہے

وہ تپش ہے کہ جل اٹھے سائے

دھوپ رکھی تھی سائبان میں کیا

کی مرے بعد قتل سے توبہ

آخری تیر تھا کمان میں کیا