Khatir Ghaznavi's Photo'

خاطر غزنوی

1925 - 2008 | Peshawar, Pakistan

اپنی غزل ’گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے‘ کے لیے مشہور، جسے کئی گایکوں نے آواز دی ہے

اپنی غزل ’گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے‘ کے لیے مشہور، جسے کئی گایکوں نے آواز دی ہے

تخلص : 'خاطر'

اصلی نام : محمد ابراہیم بیگ

پیدائش : 25 Nov 1925, Peshawar, Pakistan

وفات : 07 Jul 2008

ایک ایک کر کے لوگ نکل آئے دھوپ میں

جلنے لگے تھے جیسے سبھی گھر کی چھاؤں میں

محمدابراہیم بیگ نام اور خاطر تخلص ہے۔۱۹۲۵ء میں پشاور میں پید اہوئے۔تعلیم ایم اے (اردو)، ڈپلوما چینی زبان، آنرز (پشتو) ، سرٹیفکیٹ روسی زبان۔ریڈیو پاکستان پشاور سے منسلک رہے۔ کئی اخباروں اور رسالوں کے اڈیٹر رہے۔ پشاور یونیورسٹی میں چینی زبان کے استاد کی حیثیت سے تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کی تصانیف اور تالیفات کے چند نام یہ ہیں: ’سرحد کی رومانی کہانیاں‘، ’سرحد کے رومان‘(لوک کہانیاں)، ’رزم نامہ‘(رزمیہ نظم)، ’جدید نظمیں‘(انتخاب)، ’ننھی منی نظمیں‘(بچوں کی نظمیں)، ’خوش حال خاں خٹک کا کلام‘(اردو ترجمہ)، ’مرزا محمود سرحدی۔ شخصیت وفن‘، ’خواب در خواب‘(شعری مجموعہ)۔ وہ ۷؍جولائی ۲۰۰۸ء کو پشاور میں انتقال کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:172

Added to your favorites

Removed from your favorites