محمد مستحسن جامی
غزل 72
اشعار 66
رنگ بدلا ہوا تھا پھولوں کا
تم یقیناً اداس گزرے تھے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
لکھ کے رکھ دیتا ہوں الفاظ سبھی کاغذ پر
لفظ خود بول کے تاثیر بنا لیتے ہیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
ہمارے پرکھوں نے جوتے کی نوک پر رکھی
ہمارے پاس بھی دنیا تبھی نہیں آتی
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
دستک دینے والے تجھ کو علم نہیں
دروازے کے دونوں جانب تالا ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
غربت کا احسان تھا ہم پر
اک تھالی میں کھا سکتے تھے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے