Nasir Zaidi's Photo'

ناصر زیدی

1943 - 2020 | لاہور, پاکستان

ناصر زیدی

غزل 22

نظم 1

 

اشعار 7

میں بے ہنر تھا مگر صحبت ہنر میں رہا

شعور بخشا ہمہ رنگ محفلوں نے مجھے

  • شیئر کیجیے

دیکھا اسے تو آنکھ سے آنسو نکل پڑے

دریا اگرچہ خشک تھا پانی تہوں میں تھا

  • شیئر کیجیے

رات سنسان ہے گلی خاموش

پھر رہا ہے اک اجنبی خاموش

  • شیئر کیجیے

ہاں یہ خطا ہوئی تھی کہ ہم اٹھ کے چل دیے

تم نے بھی تو پلٹ کے پکارا نہیں ہمیں

  • شیئر کیجیے

وہ بھی کیا دن تھے کہ جب عشق کیا کرتے تھے

ہم جسے چاہتے تھے چوم لیا کرتے تھے

  • شیئر کیجیے

قطعہ 1

 

کتاب 17

"لاہور" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے