نوشاد علی
غزل 22
اشعار 5
اک بے قرار دل سے ملاقات کیجیے
جب مل گئے ہیں آپ تو کچھ بات کیجیے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
اک بے قرار دل سے ملاقات کیجیے
جب مل گئے ہیں آپ تو کچھ بات کیجیے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
زندگی مختصر ملی تھی ہمیں
حسرتیں بے شمار لے کے چلے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
زندگی مختصر ملی تھی ہمیں
حسرتیں بے شمار لے کے چلے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
آبادیوں میں دشت کا منظر بھی آئے گا
گزرو گے شہر سے تو مرا گھر بھی آئے گا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے