نذیر قیصر
غزل 34
اشعار 18
برس رہی تھی بارش باہر
اور وہ بھیگ رہا تھا مجھ میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
یوں تجھے دیکھ کے چونک اٹھتی ہیں سوئی یادیں
جیسے سناٹے میں آواز لگا دے کوئی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کوئی مجھ کو ڈھونڈھنے والا
بھول گیا ہے رستہ مجھ میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
بکھرتا جاتا ہے کمرے میں سگرٹوں کا دھواں
پڑا ہے خواب کوئی چائے کی پیالی میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
پتھر ہوتا جاتا ہوں
ہنسنے دو یا رونے دو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے