Qabil Ajmeri's Photo'

قابل اجمیری

1931 - 1962 | حیدرآباد, پاکستان

قابل اجمیری

غزل 21

اشعار 31

راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے

فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا

  • شیئر کیجیے

رنگ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب

چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

  • شیئر کیجیے

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں

اشک بہہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیں

کچھ دیر کسی زلف کے سائے میں ٹھہر جائیں

قابلؔ غم دوراں کی ابھی دھوپ کڑی ہے

کتاب 2

 

تصویری شاعری 4

 

ویڈیو 16

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر
Din pareshaan hai raat bhaari hai

ہری ہرن

shauq-e-beintiha na de jana

نامعلوم

Sitaron tum to so jao

نصرت فتح علی خان

Zabt-e-gham ka sila na de jana

ہری ہرن

امجد پرویز

نامعلوم

صابری بردرس

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں

بھارتی وشوناتھن

تم نہ مانو مگر حقیقت ہے

ظہیر احمد وارثی

تم نہ مانو مگر حقیقت ہے

پنکج اداس

حیرتوں کے سلسلے سوز_نہاں تک آ گئے

نامعلوم

حیرتوں کے سلسلے سوز_نہاں تک آ گئے

گایتری اشوکن

حیرتوں کے سلسلے سوز_نہاں تک آ گئے

مہدی حسن

صراحی کا بھرم کھلتا نہ میری تشنگی ہوتی

صابری بردرس

وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد

اقبال بانو

ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے

خوشبو خانم

آڈیو 10

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں

بقدر_جوش_جنوں تار تار بھی نہ کیا

تم نہ مانو مگر حقیقت ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے