noImage

راسخ عظیم آبادی

1757 - 1823 | پٹنہ, ہندوستان

غزل 7

اشعار 3

بازار جہاں میں کوئی خواہاں نہیں تیرا

لے جائیں کہاں اب تجھے اے جنس وفا ہم

  • شیئر کیجیے

جب تجھے خود آپ سے بیگانگی ہو جائے گی

آشنا تب تجھ سے وہ دیر آشنا ہو جائے گا

  • شیئر کیجیے

شاگرد ہیں ہم میرؔ سے استاد کے راسخؔ

استادوں کا استاد ہے استاد ہمارا

  • شیئر کیجیے
 

ای- کتاب 4

دیوان راسخ عظیم آبادی

 

2006

دیوان راسخ عظیم آبادی

 

1994

مثنویات راسخ

 

1957

راسخ عظیم آبادی

 

 

 

آڈیو 3

تمہیں ایسا بے_رحم جانا نہ تھا

دل زلف_بتاں میں ہے گرفتار ہمارا

غفلت میں کٹی عمر نہ ہشیار ہوئے ہم

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

 

مزید دیکھیے

شعرا متعلقہ

  • امام بخش ناسخ امام بخش ناسخ ہم عصر
  • حیدر علی آتش حیدر علی آتش ہم عصر
  • سخی لکھنوی سخی لکھنوی ہم عصر
  • منتظر لکھنوی منتظر لکھنوی ہم عصر
  • مفتی صدرالدین آزردہ مفتی صدرالدین آزردہ ہم عصر
  • امداد علی بحر امداد علی بحر ہم عصر
  • وزیر علی صبا لکھنؤی وزیر علی صبا لکھنؤی ہم عصر
  • میر تسکینؔ دہلوی میر تسکینؔ دہلوی ہم عصر
  • واجد علی شاہ اختر واجد علی شاہ اختر ہم عصر
  • ماہ لقا چندا ماہ لقا چندا ہم عصر

شعرا کے مزید "پٹنہ"

  • شکیب ایاز شکیب ایاز
  • امداد امام اثرؔ امداد امام اثرؔ
  • بسمل  عظیم آبادی بسمل  عظیم آبادی
  • منیر سیفی منیر سیفی
  • عین تابش عین تابش
  • عالم خورشید عالم خورشید
  • خورشید اکبر خورشید اکبر
  • شمیم فاروقی شمیم فاروقی
  • علیم اللہ حالی علیم اللہ حالی
  • حسرتؔ عظیم آبادی حسرتؔ عظیم آبادی

Added to your favorites

Removed from your favorites