صابر وسیم

غزل 24

اشعار 7

پہلا پتھر یاد ہمیشہ رہتا ہے

دکھ سے دل آباد ہمیشہ رہتا ہے

جانے کس کی آس لگی ہے جانے کس کو آنا ہے

کوئی ریل کی سیٹی سن کر سوتے سے اٹھ جاتا ہے

یہ عمر بھر کا سفر ہے اسی سہارے پر

کہ وہ کھڑا ہے ابھی دوسرے کنارے پر

خواب تمہارے آتے ہیں

نیند اڑا لے جاتے ہیں

دیکھو ایسا عجب مسافر پھر کب لوٹ کے آتا ہے

دریا اس کو رستہ دے کر آج تلک پچھتاتا ہے

کتاب 1

 

"کراچی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے