noImage

سعید اللہ قریشی

اشعار 4

کبھی تو منبر و محراب تک بھی آئے گا

یہ قہر قہر کے اسباب تک بھی آئے گا

  • شیئر کیجیے

جب تک کہ تو غزل میں اتاری نہ جائے گی

بستر پہ آج رات گزاری نہ جائے گی

  • شیئر کیجیے

میں ارتقائی مناظر کی اک نشانی ہوں

مجھے سکون سے جینے دو سانس لینے دو

  • شیئر کیجیے

کتاب 1

بانگ اثر

 

1988