صاحب علی کی بچوں کی کہانیاں
چل رے کدو ٹھمک ٹھمک
ایک تھی بڑھیا۔ اکیلی ہی رہتی تھی بیچاری۔دن بھر کام کرتی پر اسے پیٹ بھر کھانا نہ ملتا۔ سدا فاقے سے رہتی۔ ایک دفعہ بڑھیا کا من چاہا کہ چار دن اپنی بیٹی کے گھر رہ کر آئے بڑھیا، لڑکی کے گاؤں جانے کے لیے نکل پڑی۔ راستے میں اسے ایک بھیڑیا ملا۔ بھیڑیے نے
کووں کا اسکول
ایک تھا لیموں کا پیڑ۔ ایک تھا آم کا درخت۔ لیموں کے پیڑ پر کوے کا گھونسلا تھا۔ آم کے درخت پر کویل کا گھونسلا تھا۔ لیموں کے پیڑ کی شاخ پر بیٹھ کر کوا چلاتا، ’’کائیں کائیں‘‘ آم کی ڈال پر بیٹھ کر کویل گاتی، ’’کوکو۔‘‘رنگ سے دونوں ہی کالے تھے لیکن کہاں
پھول اور بچے
ماسٹر کے ہاتھ میں آج چھڑی نہیں تھی۔ چاک بھی نہیں تھا۔ ان کے ہاتھ میں آج پھول تھے۔ رنگ برنگے بہت سارے پھول تھے۔ جاسندی کے، گلاب کے، گل شبو کے اور موگرے کے۔ کلاس خوشبو سے معطر ہو گئی۔ بچوں کو خوب مزا آیا۔ وہ ناچنے لگے۔ ’’ماسٹر صاحب آج پھول لے کر
تالاب میں گرا ہوا چاند
ایک جنگل میں ایک بڑا سا تالاب تھا۔ اس تالاب کے کنارے بہت سارے پیڑ تھے۔ ان پیڑوں پر کچھ بندر رہتے تھے۔ بندروں کے بچے بڑے شریر تھے۔ وہ سارا دن چلاتے، لڑتے اور دنگا فساد کرتے رہتے۔ بڑے بندر انہیں سمجھا سمجھا کر تھک گئے تھے لیکن وہ ان کی سنتے ہی نہیں تھے۔ ایک
چندا ماما کا کرتا
رات کا وقت تھا۔ خوب ٹھنڈ پڑ رہی تھی۔ آسمان میں چاند ننگا ہی گھوم رہا تھا۔ چاند اپنی ماں کے پاس گیا اور بولا’’ماں، ماں مجھے بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے، مجھے ایک کرتا سل کر دوگی؟‘‘ قریب ہی بہت سے بادل بکھرے ہوئے تھے۔ ماں نے ایک سفید بادل لیا اور چاند کو ایک
کوئل کو کو کیوں کرتی ہے
دو بہنیں تھیں۔ ایک کا نام کو اور دوسری کا نام سو۔ دونوں ایک دوسرے سے بڑی محبت تھی۔ سارا وقت دونوں مل کر کھیلتی پھرتیں اور ناچتیں۔ بیساکھ کے دن تھے۔ آم کے درخت پر بور لگ گئے تھے۔ سو نےکہا ’’کو چلو ہم بور لانے کے لئے جائیں۔‘‘ کو نے کہا ’’ٹھیک
سدو کی قمیص
سدو بہت ہی غریب لڑکا تھا۔ اس کے پاس پہننے کے لیے ڈھنگ کی قمیص بھی نہیں تھی۔ پھٹی ہوئی قمیص پہن کر ہی وہ باہر پھرتا۔ ایک دن وہ کھیت میں پھر رہا تھا۔ وہاں اسے ایک کپاس کا پودا نظر آیا۔ کپاس کے پودے نے کہا ’’کیوں رے لڑکے، پھٹی ہوئی قمیص پہن کر کیوں
مداری
راستے میں ایک مداری بیٹھا ہوا تھا۔ وہ ایک ہاتھ سے ڈگڈگی بجا رہا تھا ڈگڈگی کی آواز سن کر ہم سب وہاں جمع ہو گئے مداری کے پاس ایک بڑی سی ٹوکری تھی۔ ٹوکری میں سے اس نے ایک گہرے پیلے رنگ کا ناگ باہر نکالا۔ مداری اپنی بین بجانے لگا۔ناگ اپنا
خواہ مخواہ کے سوالات
دوپہر سے بادل گھر آئے تھے۔ کالے نیلے بادل جانے کہاں کہاں سے جمع ہوگئے تھے۔ ہوا تیز چلنے لگی۔ آنگن میں سیم کی پھلی کا درخت ہلنے لگا۔ دوچار پھلیاں یکے بعد دیگرے ٹوٹ کر پیڑے سے نیچے گر پڑیں۔ گھاس، سوکھے ڈنٹھل اور پتے ہوا کی انگلی پکڑ کر چکراتے ہوئے اوپر
چرمرائی ہوئی پتنگ
چھ بج چکے ہوں گے۔ دیوار سے سائے اترنے لگے تھے۔ کویلوں کی چھت پر سنہری دھوپ اب تک سستا رہی تھی۔ گلی کے موہانے پر چھوٹا رامو کھڑا تھا۔وہ پتنگ اڑا رہا تھا۔ پتنگ کیا تھی ایک کاغذ کے چھوٹے سے ٹکڑے کو آڑا ٹیڑھا پھاڑ کر بنائی گئی تھی۔ اس کے ایک کنارے پر چندی
بنی کی دیوالی
ایک دن صبح ہمارے آنگن میں ایک واسودیو آیا۔ سر پر مور کے پروں والی ٹوپی، بدن پر ایک لمبا گھیر دار جبہ، کندھے پر رنگ برنگا پھٹا ہوا انگوچھا اور پیر میں ایک پھٹا ہوا جوتا۔ ایسا اس کا ٹھاٹھ تھا۔ ایک ہاتھ سے کرتال بجاتے ہوئے وہ گاتا رہا۔ ’’پنڈھری کے
پگڈنڈی
ہرے پیلے گھاس کےمیدان سے ٹیڑھا میڑھا راستہ بناتی وہ ایک چھوٹی سی پگڈنڈی تھی۔ آس پاس اگی ہوئی پھولوں کی جھاڑیوں اور ہری ہری بیلوں سے وہ قریب قریب ڈھک گئی تھی۔ پر لی طرف تھوڑے ہی فاصلے سے ایک بڑی سڑک گزرتی تھی۔ اس راستے پر ہمیشہ لوگوں کا آنا جانا
وڑی کھاؤں گا کڑم کڑم
ایک تھی بڑھیا۔ اس نے آنگن میں وڑیاں سکھانے کے لیے ڈال رکھی تھیں۔ کہیں سے آیا ایک کوا۔ وہ ایک وڑی اٹھا کر چمپت ہونے لگا۔ بڑھیا قریب ہی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے کہا ’’اے، رکھ دے وڑی نیچے! کہاں لے بھاگ رہا ہے؟ چونچ دھوکر آ تب وڑی دوں گی۔‘‘ کوا
لکڑی کے چوکور ٹکڑے کی ڈرائنگ
گھنٹی دوبارہ بجی۔ تیسرا پریڈ شروع ہوا۔ ڈرائنگ ماسٹر کلاس میں داخل ہوئے۔ بچوں نے اپنی کتابیں بند کرکے بستوں میں رکھ۔ ڈرائنگ کی کاپیاں باہر نکالیں۔ ماسٹر نے پنسلیں تقسیم کیں۔ ربر رکھے۔ کچھ پنسلوں کی نوکیں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ چاقو لے کر بچے پنسل کی نوک بنانے