اپنی خوشیاں بھول جا سب کا درد خرید

سیفیؔ تب جا کر کہیں تیری ہوگی عید

ہر محفل میں جا مگر اتنی کر لے جانچ

خودداری پر بھول کر آئے کبھی نہ آنچ

میں ہوں اک ذرہ مگر اونچی میری ذات

میرے آگے کچھ نہیں تاروں کی اوقات

کیسا ہر دم شور ہے کیسی چیخ پکار

دو دن کی ہے زندگی ہنس کر اسے گزار