شاہد کمال
غزل 38
اشعار 15
جب ڈوب کے مرنا ہے تو کیا سوچ رہے ہو
ان جھیل سی آنکھوں میں اتر کیوں نہیں جاتے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
جنگ کا شور بھی کچھ دیر تو تھم سکتا ہے
پھر سے اک امن کی افواہ اڑا دی جائے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
یہ کیسا دشت تحیر ہے یاں سے کوچ کرو
ہمارے پاؤں سے رفتار کھینچتا ہے کوئی
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
تو میرے ساتھ نہیں ہے تو سوچتا ہوں میں
کہ اب تو تجھ سے بچھڑنے کا کوئی ڈر بھی نہیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
شاخ مژگاں پہ مہکنے لگے زخموں کے گلاب
پچھلے موسم کی ملاقات کی بو زندہ ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے