Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Sharif kunjahi's Photo'

شریف کنجاہی

1914 - 2007 | پاکستان

پنجابی اور اردو زبان کے ممتاز ادیب، شاعر، محقق اور مترجم

پنجابی اور اردو زبان کے ممتاز ادیب، شاعر، محقق اور مترجم

شریف کنجاہی کا تعارف

تخلص : 'شریف'

اصلی نام : شریف کنجاہی

پیدائش : 13 May 1914

وفات : 20 Jan 2007 | پاکستان

پروفیسر ڈاکٹر شریف کنجاہی پاکستان سے تعلق رکھنے والے پنجابی اور اردو کے ممتاز ادیب، شاعر، ماہرِ لسانیات، محقق، مترجم اور معلم تھے جو قرآن پاک کا پنجابی زبان میں ترجمہ ”القرآن الکریم“ کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔
شریف کنجاہی 13 مئی، 1914ء کو کنجاہ، ضلع گجرات، موجودہ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد شریف تھا۔ انھوں نے 1930ء میں کنجاہ ہائی اسکول سے میٹرک اور 1933ء میں گورنمنٹ کالج جہلم سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی ان کو شعر وسخن سے گہرا لگاؤ تھا۔ انہوں نے اپنی شاعری کا آغازانگریز تسلط کے خلاف اپنی انقلابی شاعری سے کیا، اِسی انقلابی شاعری کی وجہ سے انگریز دور میں ان کو سرکاری نوکری کے لیے پولیس کلیرنس سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا۔ شریف کنجاہی 1943ء میں منشی فاضل اور بی اے کا امتحان جامعہ پنجاب سے بطور پرائیویٹ طالب علم پاس کرنے کے بعد شعبہ تدریس سے وابستہ ہو گئے اورمختلف مقامات پر اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔1954ء میں ایم اے (اردو) اور 1956ء میں ایم اے (فارسی) کی ڈگری حاصل کی۔
شریف کنجاہی کی تصانیف کی تعداد اس طرح ہے۔
شعری مجموعوں میں "جگراتے" (پنجابی) اور "ارک ہوندی لُو" شامل ہیں، جبکہ نثری تصانیف میں "جھاتیاں" (تنقید)، "مختصر پنجابی لغت"، "شاہ دولہ دریائی"، "تاریخِ گجرات"، "لفظوں کی عینک میں"، "رگ وید: اک جھات"، "جپ جی: اک جھات" اور "ساہواں دا ویڑہ" قابلِ ذکر ہیں۔
تراجم کے میدان میں ان کی تصانیف یہ ہیں: "کہے فرید" (اردو ترجمہ)، "آزادی کی راہیں"، "آزاد سماج"، "ہیر وارث شاہ"، "گلشنِ راز"، "سوالات ملندہ" اور "ابیاتِ فرید"۔
اسی طرح پنجابی تراجم میں "القرآن الکریم"، "خطباتِ اقبال"، "علم الاقتصاد"، "جاوید نامہ"، "پنج سورہ" اور "نبیِ پاکؐ دے خطبے" شامل ہیں۔
شریف کنجاہی صاحب 20 جنوری 2007ء کو کنجاہ، ضلع گجرات، پاکستان میں وفات پا گئے۔

موضوعات

Recitation

بولیے