Sheikh Ibrahim Zauq's Photo'

شیخ ابراہیم ذوقؔ

1790 - 1854 | دلی, انڈیا

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد اور ملک الشعرا۔ غالب کے ساتھ ان کی رقابت مشہور ہے

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد اور ملک الشعرا۔ غالب کے ساتھ ان کی رقابت مشہور ہے

شیخ ابراہیم ذوقؔ

غزل 61

اشعار 72

تم بھول کر بھی یاد نہیں کرتے ہو کبھی

ہم تو تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا چکے

  • شیئر کیجیے

ایک آنسو نے ڈبویا مجھ کو ان کی بزم میں

بوند بھر پانی سے ساری آبرو پانی ہوئی

  • شیئر کیجیے

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں

کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا

تشریح

یہ شعر معنی اور تلازمات دونوں کے اعتبار سے دلچسپ ہے۔ شعر میں وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جنہیں اردو غزل کی روایت کا خاصہ سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً زاہدِ شراب، کافر، ایمان۔ مگر معنی کی سطح پر ذوقؔ نے طنزیہ لہجے سے جو بات پیدا کی ہے وہ قاری کو چونکا دیتی ہے۔ شعر میں زاہد کی مناسبت سے شراب، کافر کی مناسبت سے ایمان کے علاوہ پینے، پانی اور بہنے سے جو کیفیت پیدا ہوئی ہے وہ اپنے اندر میں ایک شاعرانہ کمال ہے۔ زاہد اردو غزل کی روایت میں ان کرداروں میں سے ایک ہے جن پر شاعروں نے کھل کر طنز کئے ہیں۔

شعر ی کردار زاہد سے سوال پوچھتا ہے کہ شراب پینے سے آدمی کافر کیسے ہوسکتا ہے، کیا ایمان اس قدر کمزور چیز ہوتی ہے کہ ذرا سے پانی کے ساتھ بہہ جاتا ہے۔ اس شعر کے بین السطور میں جو زاہد پر طنز کیا گیا ہے وہ ’’ڈیڑھ چلو‘‘ پانی سے ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی میں نے تو ذرا سی شراب پی لی ہے اور تم نے مجھ پر کافر ہونے کا فتویٰ صادر کیا۔ کیا تمہاری نظر میں ایمان اس قدر کمزور شےہے کہ ذرا سی شراب پینے سے ختم ہوتا ہے۔

شفق سوپوری

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر

آرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا

تشریح

یہ ذوق کا ایک خوبصورت شعر ہے اور اس میں ذوقؔ نے ایک اہم نکتے والی بات بتائی ہے۔ اگرچہ اس شعر کا اہم لفظ تکلف ہے مگر تکلیف کی رعایت سے آرام بہت تکلیف پیدا کرتے ہیں۔

ذوق اس شعر میں تکلف یعنی بناوٹ کی بدعت پر روشنی ڈالتے ہی۔ بناوٹ وہ چیز ہووتی ہے جس میں حقیقت نہ ہو یعنی جو بناوٹی ہو۔ بناوٹ زندگی کے تمام معاملات میں بھی ہوتی ہے اور رشتوں میں بھی۔ عام معاملات میں بناوٹ سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی وہ حیثیت دکھانے کی کوشش کرے جو اصلی نہ ہو اور رشتوں میں بناوٹ سے مراد ایسے جذبات کا اظہار کرنا جو حقیقی نہ ہوں۔ بہرحال معاملہ جو بھی ہے اگر انسان عام معاملات میں بناوٹ سے کام لے تو خود کوو نقصان پہنچاتا ہے اور اگر رشتوں میں بناوٹ سے کام لے تو ایک نہ ایک دن تو بناوٹ کھل ہی جاتی ہے پھر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔

ذوق کہتے کہ دراصل بناوٹ اور تضع ایک بھرپور تکلیف ہے اور جو آدمی بناوٹ سے کام نہیں لیتا اگرچہ وقتی طور پر اسے تکلیف محسوس ہوتی ہے مگر بالآخر آرام میں ہوتا ہے۔ لہٰذا انسان کو بناوٹ سے پرہیز کرنا چاہئے۔

شفق سوپوری

قطعہ 4

 

کتاب 65

تصویری شاعری 16

ویڈیو 17

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر

مہدی حسن

Gair Sah bakht hi hona tha naseebon me mere

کندن لال سہگل

Gar siyaah-bakht hi hona tha naseebon mein mere

کندن لال سہگل

Is tapish ka hai mazaa dil hi ko haasil

نامعلوم

Tera beemaar na sambhlaa

نامعلوم

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں_گے

نامعلوم

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں_گے

سدیپ بنرجی

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں_گے

شیخ ابراہیم ذوقؔ

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں_گے

ٹینا ثانی

خوب روکا شکایتوں سے مجھے

مہران امروہی

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

ششر پارکھی

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

اقبال بانو

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

بیگم اختر

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

شیخ ابراہیم ذوقؔ

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

ہری ہرن

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

اقبال بانو

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

مہران امروہی

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

شیخ ابراہیم ذوقؔ

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

کندن لال سہگل

آڈیو 14

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں_گے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

متعلقہ شعرا

"دلی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے