شمامہ افق
غزل 30
نظم 2
اشعار 3
بزم آئندہ میں کب کون کہاں بیٹھے گا
رفتگاں سب کو یہ اسرار بتانے سے رہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ترے پہلو سے سرکتے ہوئے دل رونے لگا
ڈوبنے والے کو تیراک بچانے سے رہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
تم نے لوٹ آنے کی امید لگائی ہے عبث
ہم جو دیوار اٹھا دیں وہ گرانے سے رہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے