سید سروش آصف

تصویری شاعری 1

یہ ہجرتوں کا زمانا بھی کیا زمانا ہے انہیں سے دور ہیں جن کے لیے کمانا ہے خوشی یہ ہے کہ مرے گھر سے فون آیا ہے ستم یہ ہے کہ مجھے خیریت بتانا ہے ہمیں یہ بات بہت دیر میں سمجھ آئی وہیں تو جال بچھا ہے جہاں بھی دانہ ہے ہمیں جلا نہیں سکتی ہے دھوپ ہجرت کی ہمارے سر پہ ضرورت کا شامیانہ ہے نماز عید کی پڑھ کر میں ڈھونڈھتا ہی رہا کہیں دکھے کوئی اپنا گلے لگانا ہے وہیں وہیں لیے پھرتی ہے گردش_دوراں جہاں جہاں بھی لکھا میرا آب_و_دانہ ہے

 

متعلقہ شعرا

  • عاصم واسطی عاصم واسطی استاد

"ابو ظہبی" کے مزید شعرا

  • عاصم واسطی عاصم واسطی
  • جاوید صدیقی اعظمی جاوید صدیقی اعظمی
  • آصف رشید اسجد آصف رشید اسجد
  • شہباز شمسی شہباز شمسی