وسیم خیر آبادی کے اشعار
فلک بیداد کرتا ہے جو جور ایجاد کرتے ہیں
غضب شاگرد ڈھاتا ہے ستم استاد کرتے ہیں
آسمانوں پر بھی ہیں چرچے حسن عالمگیر کے
چاند نے بھی رنگ اڑائے چاند سی تصویر کے
جرم اتنے کر چلا ہوں حشر تک لکھیں گے روز
کاتب اعمال پائیں گے نہ فرصت کام سے
اسے بہشت کے زنداں میں بھیج دینا تم
گناہ گار محبت کو یہ سزا دینا