Zaheer Ghazipuri's Photo'

ظہیرؔ غازی پوری

1938 | ہزاری باغ, انڈیا

ظہیرؔ غازی پوری

غزل 13

نظم 3

 

اشعار 5

بم پھٹے لوگ مرے خون بہا شہر لٹے

اور کیا لکھا ہے اخبار میں آگے پڑھیے

  • شیئر کیجیے

کاغذ کی ناؤ بھی ہے کھلونے بھی ہیں بہت

بچپن سے پھر بھی ہاتھ ملانا محال ہے

تا عمر اپنی فکر و ریاضت کے باوجود

خود کو کسی سزا سے بچانا محال ہے

ریزہ ریزہ اپنا پیکر اک نئی ترتیب میں

کینوس پر دیکھ کر حیران ہو جانا پڑا

اترے تو کئی بار صحیفے مرے گھر میں

ملتے ہیں مگر صرف جریدے مرے گھر میں

کتاب 11

"ہزاری باغ" کے مزید شعرا

 

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے