تمام
تعارف
غزل118
نظم29
شعر74
مزاحیہ شاعری3
ای-کتاب44
تصویری شاعری 25
آڈیو 13
ویڈیو 59
قطعہ11
رباعی7
قصہ6
گیلری 5
دوہا3
گیت9
قتیل شفائی کے قصے
جلیس کی دعوت اور لاہور سے واپسی
ابراہیم جلیس کراچی میں قیام پذیر تھے۔ قتیل شفائی، احمد ندیم قاسمی کے علاوہ کچھ اور دوست جب کراچی تشریف لے جاتے تو جلیس ملتے ہی پوچھتے،’’کب تک قیام ہے؟‘‘ اور جب ملاقاتی کہتا کہ فلاں تاریخ تک ہے تو فوراً جواب دیتے کہ اس دن تو میں آپ کی دعوت کرنا چاہتا
قتیل کی پیروڈی
چند بے تکلف شعراء میں پیروڈیوں کا ذکر ہورہا تھا۔ ایک صاحب کہنے لگے، ’’پیرو ڈیوں میں اصل لطف یہ ہے کہ اصل شعر میں معمولی سے تصرف کے بعد مزاح پیدا کیا جائے۔‘‘ قتیل شفائی نے یہ سنا تو بولے، ’’میں آپ سے اتفاق کرتاہوں۔ پیروڈی میں ایک آدھ لفظ کی ترمیم
مہمان کی تواضع
قتیل شفائی نے ایم۔ اسلم سے اپنی اولین ملاقات کااحوال بیان کرتے ہوئے کہا، ’’کتنی عجیب بات ہے کہ میں اسلم صاحب کی کوٹھی میں ان سے ملنے گیا لیکن اس کے باوجود ان کا تازہ افسانہ سننے سے بال بال بچ گیا۔‘‘ ’’یہ ناممکن ہے۔۔۔!‘‘ احباب میں سے ایک نے بات
پنجابیوں سے شکایت
فلم اسٹار انل کپور کے ہاں ایک دعوت میں قتیل شفائی، اظہر جاوید اور جاوید اختر شریک تھے۔ دوران گفتگو جاوید اختر قتیل سے کہنے لگے کہ پنجاب کے لوگوں نے اردو زبان کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ مثلاً ہم لوگ کہتے ہیں کہ ’’کھانا کھائیے‘‘ اسی کو پنجاب کے لوگ کہیں گے