ریختی



’ریختی‘مردوں کے ذریعہ عورتوں کی مخصوص زبان، محاورے اور روز مرہ میں عورتوں کے باہمی معاملات اور جنسی جذبات کے اظہار پر مبنی شاعری ہے جو غزل کی ہیئت میں ہوتی تھی ۔’ریختی‘انیسوی صدی میں لکھنؤ کے خاص ثقافتی ماحول کی پیداوار تھی۔ اس کے اہم شاعروں میں یار علی جان صاحب ، سعادت یار خاں رنگین، محسن خاں محسن اور انشااللہ خاں انشا شامل ہیں۔

ریختی
اب میری دوگانا کو مرا دھیان ہے کیا خاک
آج دی تعلیم گت گت کی مجھے تالوں کے بیچ
بنو شیریں کی ہے کہانی تلخ
بہار جاں فزا ہے یار کا خط
بیٹھنا تھا کہ ہوا ہو گیا توسن ان کا
بیگما میں جو بڑی ہوں تو بھلا تجھ کو کیا
پھر باجی جان بھڑوے نے جھگڑا کیا شروع
پھر گیا طبلہ بجانے آج گوہر جان کا
پیسہ تھا پاس رہتے تھے ہر آن آشنا
تم نے کیا کیا نہیں بوا دیکھا
تھا کچھ تو چور دل میں جو سو بار کی تلاش
تھام تھام اپنے کو رکھتی ہوں بہت سا لیکن
تیسرے چوتھے بھی آتے نہیں گھر آپ سے آپ
ٹیس پیڑو میں اٹھی اوہی مری جان گئی
چنگیز خاں سے کم نہیں خوں خوار کا مزاج
چوٹی پہ تری سانپ کی ہے لہر دوگانا
حسن اس کا جانؔ صاحب روح کو مرغوب ہے
خدا نے دی ہے بی نام خدا کس شان کی صورت
خلاف کہتی ہیں حوریں کہ ہے قمر کا سا
در بدر بھیک ہی مانگے گا موا میرے بعد
دکھاؤ تن تن گھڑی نہ موہن گھڑی میں کچھ ہے گھڑی میں کچھ ہے
دیکھتے ہی دیکھتے کیا ہو گیا
رشتۂ الفت کو توڑوں کس طرح
ساقی چمن میں آ کہ تری یاد ہے بہت
سیروں مرے بدن سے لہو ہاں نکل گیا
کروں میں کہاں تک مدارات روز
کس پہ جھپٹا موا شکاری آج
کس سے گرمی کا رکھا جائے یہ بھاری روزہ
کشتی میں کپی تیل کی انا انڈیل ڈال
کھلوا نہ ٹھوکریں موئے دل در بدر مجھے
کہہ دی مہتاب نے مہرن سے ملاقات کی بات
کورے بچو گے تم مجھے کر کے میاں خراب
کوئی مر جائے یا ہو جان بہ لب
گئی تھی دیکھنے باجی میں سورج کنڈ کا میلا
لاہور کی ہوس ہے نہ ملتان کی ہوس
لہر میں چوٹی کے تیرے ڈر کے مارے کانپ کانپ
منہ پہ کیا پوچھنا یوسف سے بوا میرے بعد
میری طرف سے کچھ تو ترے دل میں چور ہے
میرے گھر میں زناخی آئی کب
میں ترے صدقے گئی اے مری پیاری مت چیخ
میں تو کچھ کہتی نہیں شوق سے سو باری چیخ
نماز پڑھ پڑھ کے تو گناہوں سے اپنے توبہ بوا کیا کر
نیند آتی نہیں کم بخت دوانی آ جا
یہ دل مسوس کے چپ بھی نہیں رہا جاتا
یہ میرے یار نے کیا مجھ سے بے وفائی کی
یوں ہے اس دل کو دوگانا کی نشانی کی ہوس
seek-warrow-w
  • 1
arrow-eseek-e1 - 46 of 46 items