aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "جڑ"
میراجی
1912 - 1949
شاعر
حسرتؔ جے پوری
1922 - 1999
اے جی جوش
1928 - 2007
جے کرشن چودھری حبیب
born.1904
شمیم جے پوری
1933 - 1999
غمگین دہلوی
1753 - 1851
بہرام جی
1828 - 1895
جی اے نجم
born.1985
جے شنکر پرساد
1889 - 1937
مناکشی جی جی ویشا
born.1978
مجاز جے پوری
born.1937
امن جی مشرا
born.2001
اننت شہرگ
born.1999
صائم جی
born.1983
جے پی سعید
born.1932
جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میںدور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے
جس کے کارن فساد ہوتے ہیںاس کا کوئی اتا پتا ہی نہیں
موتی ہو کہ شیشہ جام کہ درجو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا
بڑی ممانی کا کفن بھی میلا نہیں ہواتھا کہ سارے خاندان کو شجاعت ماموں کی دوسری شادی کی فکر ڈسنے لگی۔ اٹھتے بیٹھتے دلہن تلاش کی جانے لگی۔ جب کبھی کھانے پینے سے نمٹ کر بیویاں بیٹیوں کی بری یا بیٹیوں کا جہیز ٹانکنے بیٹھتیں تو ماموں کے لیے دلہن...
(۱) ہلکو نے آ کر اپنی بیوی سے کہا، ’’شہنا آیا ہے لاؤ جو روپے رکھے ہیں اسے دیدو کسی طرح گردن تو چھوٹے۔‘‘...
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
ریختہ نے اپنے قارئین کے تجربے سے ایسے قدیم و جدید شاعروں کی کتابوں کا انتخاب کیا ہے جن کو سب سے زیادہ پڑھا گیا جاتا ہے، آپ بھی اس تجربے میں شریک ہوسکتے ہیں۔
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
जा جَہ
جو ، جس کو .
जय جَے
جتنے (عدد).
سنسکرت
जो جو
بیوی، عورت، جورو
जा جا
جگہ، ٹھکانا، مقام، مجلس
فارسی
بے جڑ کے پودے
ساحل عظیم آبادی
ناولٹ
سہیل عظیم آبادی
افسانہ
دلت مسئله: جڑ میں کون؟
انتظار نعیم
مکتوبات حضرت علی
حضرت علی
خط
اپنا گریباں چاک
جاوید اقبال
خود نوشت
ترجمہ و شرح کلیات نفیسی
حکیم محمد کبیرالدین
طب یونانی
مصباح الحکمت
محمد فیروز الدین
طب
کلیات حسن
محمد حسن رضا خان
نعت
پاک و ہند کی جڑی بوٹیاں
صوفی لچھمن پرشاد
آیوروید
دیوان حضرت علی
دیوان
زٹل نامہ
جعفر زٹلی
شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ
دلی جو ایک شہر تھا
شاہد احمد دہلوی
مقالات/مضامین
جو میں نے دیکھا
راؤ عبدالرشید
انٹرویو
کلیات میرا جی
جمیل جالبی
کلیات
ہندسی روشنی
حمید عسکری
سائنس
اس دور ميں مے اور ہے ، جام اور ہے جم اورساقي نے بنا کي روش لطف و ستم اور
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیںکیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں
یہ جو ننگ تھے یہ جو نام تھے مجھے کھا گئےیہ خیال پختہ جو خام تھے مجھے کھا گئے
یہ زمیں تب بھی نگل لینے پہ آمادہ تھیپاؤں جب ٹوٹتی شاخوں سے اتارے ہم نے
چاہے سونے کے فریم میں جڑ دوآئنہ جھوٹ بولتا ہی نہیں
ٹھگے جا نے کی فکر نہ تھی۔ ودّ یانہ جانتا تھا۔ کھانا ملا تو کھا لیا نہ ملا تو چربن پر قنا عت کی۔ چر بن بھی نہ ملا تو پانی لیا اور رام کا نام لے کر سو رہا۔...
یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب اس جنگ کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ غالباً آٹھ نو برس پہلے کی بات ہے۔ جب زندگی میں ہنگامے بڑے سلیقے سے آتے تھے ؛ آج کی کل طرح نہیں۔ بے ہنگم طریقے پر پے در پے حادثے برپا ہورہے ہیں،...
اے پہاڑوں کی دل فریب فضااے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا
مہا لکشمی کے اسٹیشن کے اس پار لکشمی جی کا ایک مندر ہے۔ اسے لوگ ریس کورس بھی کہتے ہیں۔ اس مندر میں پوجا کرنے والے ہارتے زیادہ ہیں، جیتتے بہت کم ہیں۔ مہا لکشمی سٹیشن کے اس پار ایک بہت بڑی بدرو ہے جو انسانی جسموں کی غلاظت کو...
تم ایک بار جو ٹوٹے تو جڑ نہیں پائےہمیں تو روز یہ ذلت اٹھانی پڑتی ہے
تو کوئی نہ ہو تیماردار؟ جی نہیں! بھلا کوئی تیمار دار نہ ہو تو بیمار پڑنے سے فائدہ؟ اور اگر مر جائیئے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو؟ توبہ کیجئے! مرنے کا یہ اکل کھرا دقیانوسی انداز مجھے کبھی پسند نہ آیا۔...
جب میں سنا کہ یار کا دل مجھ سے ہٹ گیاسنتے ہی اس کے میرا کلیجہ الٹ گیا
مائی تاجو ہر رات کو ایک گھنٹے تو ضرور سو لیتی تھی لیکن اس رات غصے نے اسے اتنا سا بھی سونے کی مہلت نہ دی۔ پو پھٹے جب وہ کھاٹ پر سے اتر کر پانی پینے کے لیے گھڑے کی طرف جانے لگی تو دوسرے ہی قدم پر اسے...
جہاں تک میرا ذہن کام دیتا ہے مجھے اس کی تمام تر وجہ وہ خیالات معلوم ہوتے ہیں جو ایک عرصے سے اس کے دل و دماغ پر آہستہ آہستہ چھا رہے تھے۔ دسویں جماعت اور کالج میں داخل ہوتے وقت سلیم کا دماغ ان تمام الجھنوں سے آزاد تھا۔...
اردو کی کلاس جاری تھی۔ پہلی قطار میں پانچ دمینتی روپ لڑکیاں اور باقی کرسیوں پر چھبیس جگت رنگ لڑکے بیٹھے تھے۔ پروفیسر صمدانی نے دیوانِ غالب میں بائیں ہاتھ کی انگشت شہادت نشانی کے طور پر پھنسائی اور گرج دار آواز میں بولا، ’’مس سرتاج سبک سرکے کیا معنی...
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books