aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "واسوخت"
واسو دیو
مصنف
اب نغمہ طرازان برافروختہ اے شہرواسوخت کہیں گے غزل انشا نہ کریں گے
سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھےبے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے
اب میں فی الحال یہ اصول قائم کرتا ہوں، ہر وہ منظوم تحریر جو غزل نہیں ہے وہ نظم ہے۔ یہاں میں نثری نظم کو بھی منظوم تحریر کی نوع میں رکھ رہا ہوں اور اگر کوئی ڈراما منظوم ہے یا اس کے کچھ حصے منظوم ہیں تو ان منظوم حصوں کی حد تک وہ ڈراما بھی نظم ہے۔ دوسرا اصول یہ ہو سکتا ہے کہ نظم وہ منظوم تحریر ہے جو غزل، قصیدہ، مرثیہ، مثنوی، رباعی، قطعہ، واسوخت، شہر ا...
ایک بار میں نے یہ کہہ دیا تھا کہ اردو ادب میں غزل کے بجائے نظم کی روایت زیادہ قدیم ہے تو وارث علوی کی محبوب اصطلاح میں ’’بھائی لوگ‘‘ مجھے فوراً جھٹلانے کو نکل کھڑے ہوئے تھے۔ بارہویں صدی کے آخر میں پیدا ہونے والی اردو جس علاقے میں پہنچی اور جہاں جہاں اس میں ہماری غزل نے آنکھ کھولی وہاں پہلے سے نظم کا وسیلہ اظہار پہلے سے موجود تھا کہ شاعری درس و تدری...
ہاتھ واسوختہ ہو تجھ سے اٹھا بیٹھوں گاآؤں گا بھی تو ترے پاس نہ آ بیٹھوں گا
वासोख़्तواسوخت
impassioned style, vigourness of style
उर्दू पद्य की एक क़िस्म जो मुसद्दस के रूप में होता है और जिसमें प्रेमिका के व्यवहार से नाराज़ होकर प्रेम छोड़ देने और प्रेमिका को त्यागने का वर्णन होता है।
اردو میں واسوخت نگاری
سید زین العابدین
شاعری تنقید
مرزا شوق لکھنوی
رابعہ مبین
خواتین کی تحریریں
شعلہ جوالہ (مجموعہ واسوخت)
مردان علی خاں رانا
مجموعہ
واسوخت امانت
امانت لکھنوی
واسوخت
واسوخت ناظم
سید یوسف علی خاں ناظم
راشد مفتی
غزل
واسوخت مہر لکھنوی
مہرلکھنوی
واسوخت سحر
منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
واسوخت ثانی نمک
منشی رامجی مل سنھلی
واسوخت طاہر
سید محمد طاہر علی طاہر
واسوخت اردو
نامعلوم مصنف
نمک بدایونی
مجموعہ واسوخت
میر حسن
میر معشوق سے کھیل نہیں سکتے۔ وہ یاتو شکوہ کرتے ہیں یا پرستش اور ان کی طبیعت واسوخت کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔ وصال اور ہم آغوشی کی منزل ذرا کم ہی آتی ہے۔ انتظار کا درد بڑی حد تک لذت سے نا آشنا ہے۔ وہ کرب ہی کرب ہے۔ رقص اور نغمے کے الفاظ تو درکنار، اس تصور کی پرچھائیں بھی میر کی غزلوں پر نہیں پڑی۔۔۔ کبھی زمزمہ پردازی کا ذکر ضرور کرتے ہیں مگر اس اہتم...
اردو کی دیگر اصناف، مرثیہ، شہادت نامہ، سلام، نوحہ، شہر آشوب، واسوخت، ریختی، ساقی نامہ، سہرا اس کے علاوہ ہیں۔ اردو میں گیتوں کی تعداد بہت ہے اور شروع سے ملتی ہے۔ اول تو لوک گیت ہیں۔ ان میں بچّے کی پیدائش کے موقع کے گیت، شادی کے گیت یا سہاگ، موسموں اور تیوہاروں کے گیت اور پیشہ وروں کے گیت سبھی آجاتے ہیں۔ قیصر جہا ں نے ’’اُردو گیت‘‘ میں اظہر علی فا...
معشوق سے براہ راست گفتگو اور اظہار حال والے اشعار کی ضمن میں ایسے اشعار بھی آتے ہیں، جن میں عاشق نے معشوق کو برا بھلا کہا ہے، جلی کٹی سنائی ہے یا اس کے کردار پر حملہ کیا ہے۔ ان اشعار میں وہ تہ داری اور پیچیدگی بہت کم ہے، جس سے مندرجہ بالا اشعار میں سے اکثر شعر متصف ہیں۔ لیکن جلی کٹی سنانے والے ان اشعار میں واسوخت کا بھی رنگ نہیں ہے، بلکہ وہی روزمرہ...
سچ کہو شہر میں صحرا میں کہاں رہتے ہویاں بہت رہتے ہو خوش باش کہ واں رہتے ہو
اور ایک مدت تک میں بھی ان اشعار کا کلمہ پڑھتا رہا۔ لیکن میرے دل میں ان اشعار کے متعلق ایک دبا دبا چور تھا۔ میرا وجدان ان اشعار سے جہاں ایک طرف متکیف ہوتا تھا وہاں دوسری طرف کچھ مجروح بھی ہوتا تھا۔ لیکن اس ناآسودگی کا سبب ذرا بعد میں سمجھ میں آیا کہ دونوں اشعار میں ان کے محاسن کے باوجود کچھ کمی بھی تھی اور وہ یہ کہ معشوق اور معشوق کی حالت سے ہمدرد...
کیا در و بام پہ ہم پھرتے ہیں گھبرائے ہوئےلیکن بڑی شاعری اور بڑی شخصیت کی تعمیر محض شدت اور خلوص کی بنیادوں پر نہیں ہوتی۔ جذباتی خلوص اور اخلاقی خلوص میں بڑا فرق ہے۔ جذباتی خلوص تو ایک لمحہ کی چیز ہوتا ہے۔ اخلاقی خلوص اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب مختلف قسم کے پرخلوص اور شدید جذباتی لمحوں کو ایک دوسرے سے ملنے اور ٹکرانے دیا جائے۔ محض اتنا کہہ دینے سے کام نہیں چلتا کہ جرأت کی محبت دیر پا نہیں ہوتی۔ یا وہ صرف وقتی تسکین ڈھونڈتے ہیں۔ ہنگامی عشق بازی شاید ڈانٹے نے جرأت سے زیادہ کی ہوگی۔ ایسی محبت جس کے خلوص اور شدت میں ازل سے لے کر ابد تک کوئی فرق نہ آئے انسانوں کا کام نہیں۔ واسوخت والی ذہنیت سے پاک رہ کر بھی فراق صاحب نے کہا ہے،
ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھےاونی سونی بھی مرے آگے اٹھا جاتے تھے
نظم کی اصطلاح پہلے تو شاعری کے لئے استعمال ہوتی تھی اور اس کے مقابلے میں نثر کو رکھا جاتا تھا۔ پھر یہ غزل کے علاوہ شاعری کی دوسرے اقسام کے لئے استعمال ہونے لگی مگر جدید تناظر میں نظم وہ صنف سخن ہے جو نہ قصیدہ ہے نہ مثنوی، نہ مرثیہ، نہ شہر آشوب، نہ واسوخت، نہ رباعی۔ ایک صنف سخن کی حیثیت سے یہ نظیر اکبرآبادی کے یہاں نمایاں ہے اور آزاد اور حالیؔ کے...
اس بات کا اعتراف کرنا ضروری ہے کہ ہم نے ابھی میر کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ آل احمد سرور، مجنوں گورکھپوری، گوپی چند نارنگ اور محمد حسن عسکری کی اکادکا تحریروں اور اثر لکھنوی کی پرزور مدافعت اور وکالت کے سوا میر شناسی کا دامن خالی ہے۔ فراق گورکھ پوری اور سید عبد اللہ اور یوسف حسین جیسے لوگوں کی تعریفوں نے تو میر کو نقصان ہی پہنچایا۔ مجنوں صاحب نے (اور...
جو روز حشر تجھی کو نہ عذر خواہ کریںبہت ممکن ہے اس تصور نے میر کو واسوخت لکھنے پر اکسایا ہو۔ یہ بات اہم ہے کہ اردو میں واسوخت کی ابتدا میر نے کی ہے اور واسوخت اس وقت تک نہیں لکھا جاتا جب تک محبوب کے لئے جذبہ احترام میں کمی نہ ہو اور یہ عاشق پیشہ شاعروں کاشیوہ نہیں ہے جب کہ حافظ نے کہا ہے کہ ’’ہیچ عاشق سخن سخت بہ معشوق نہ گفت۔‘‘
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books