aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "parii-vash"
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنابن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
ہو چمن کے پھولوں کا یا کسی پری وش کاحسن کے سنورنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے مرے دل پروصیؔ میں جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
شرم کب تک اے پری لا ہاتھ کر اقرار وصلاپنے دل کو سخت کر کے رشتۂ انکار توڑ
رکھ نہ آنسو سے وصل کی امیدکھارے پانی سے دال گلتی نہیں
ہجر سے وصل کی اتنی تھی مسافت یارورنگ تبدیل ہوا بہتے ہوئے پانی کا
دو ایک روز کے فاقے تو کتنی بار ہوئےپر اب کے وصل کا یہ قحط جان لیوا ہے
وصل کو ماں کے ترستے ہیں مرے بچے بھیکیفیت ہجر کی مجھ پر ہی نہیں طاری ہے
وصل پر دل ہی کسی کا نہ ہو مائل جب تکہجر کی پوری ضرورت نہیں کی جا سکتی
وصل ہوا پر دل میں تمناجیسی تھی ویسی رکھی ہے
کہنا قاصد کہ اس کے جینے کاوعدۂ وصل پر مدار ہے آج
سن وصف دہن دیجئے کچھ منہ سے پیارےمجھ شاعر مفلس کی ہے گزران صلے پر
وصل میں بیکار ہے منہ پر نقابشرم کا آنکھوں پہ پردہ چاہئے
ہماری آنکھوں میں بے وجہ آ گئے آنسویقین کیجے کسی بات پر نہیں آئے
وہ بولے وصل کی ہاں ہے تو پیاری پیاری راتکہاں سے آئی یہ اللہ کی سنواری رات
اے حسرت دل گو وصل ہوا پر شوق ہمارا کم نہ ہواجس سے کہ خلش کچھ اور بڑھے وہ زخم ہوا مرہم نہ ہوا
میں شوق وصل میں کیا ریل پر شتاب آیاکہ صبح ہند میں تھا شام پنچ آب آیا
بلندیوں پر ذرا تکبر سے دور رہناوگرنہ یہ ہی بنے گا وجہ زوال لڑکی
ہجر میں شدت دکھاتے ہیں سبھی عاشق مگرلطف تب ہے وصل ہو پر آرزو باقی رہے
میں ترے جسم کے جب پار نکل جاؤں گاوصل کی رات بڑی غور طلب ہوگی وہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books