aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "faiz"
فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرابڑی جناب تری فیض عام ہے تیرا
ان سے جو کہنے گئے تھے فیضؔ جاں صدقہ کیےان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
لب پر ہے تلخی مئے ایام ورنہ فیضؔہم تلخی کلام پہ مائل ذرا نہ تھے
وہ ہونٹ فیض سے جن کے بہار لالہ فروشبہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بہ دوش
مارکس کے علم و فطانت کا نہیں کوئی جوابکون اس کے درک سے ہوتا نہیں ہے فیض یاب
تیری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کیفیضؔ نے لکھی ہے یہ نظم نرالے ڈھب کی
فیضؔ دلوں کے بھاگ میں ہے گھر بھرنا بھی لٹ جانا بھیتم اس حسن کے لطف و کرم پر کتنے دن اتراؤ گے
ہے دشت اب بھی دشت مگر خون پا سے فیضؔسیراب چند خار مغیلاں ہوئے تو ہیں
جہاں میں ہر طرف ہے علم ہی کی گرم بازاریزمیں سے آسماں تک بس اسی کا فیض ہے جاری
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگمیں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
مرے ہندو مسلماں سب مجھے سر پر بٹھاتے تھےانہی کے فیض سے معنی مجھے معنی سکھاتے تھے
چل رہے ہیں آج دنیا میں ہزاروں محکمےسچ اگر پوچھو تو ہے یہ فیضؔ سب استاد کا
کچھ عشق کیا کچھ کام کیاوہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو تم نے کہا ہے، فیضؔ نے جو فرمایا ہےسب مایا ہے
یہ اپنی عمرکس بے فیض موسم کی رفاقت میں گزاری ہے
آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سےجس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا
ہم دیکھیں گےلازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
شعار کی جو مدارات قامت جاناںکیا ہے فیضؔ در دل در فلک سے بلند
پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیںراہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا
''میرا جی کو ماننے والے کم ہیں لیکن ہم بھی ہیںفیضؔ کی بات بڑی ہے پھر بھی اب ویسا کون آئے گا''
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books