aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "masruuf"
کچھ عشق کیا کچھ کام کیاوہ لوگ بہت خوش قسمت تھےجو عشق کو کام سمجھتے تھےیا کام سے عاشقی کرتے تھےہم جیتے جی مصروف رہےکچھ عشق کیا کچھ کام کیاکام عشق کے آڑے آتا رہااور عشق سے کام الجھتا رہاپھر آخر تنگ آ کر ہم نےدونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہےپل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہےمجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے اور آ کر چلے گئےکچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے کچھ نغمے گا کر چلے گئےوہ بھی اک پل کا قصہ تھے میں بھی اک پل کا قصہ ہوںکل تم سے جدا ہو جاؤں گا گو آج تمہارا حصہ ہوںپل دو پل میں کچھ کہہ پایا اتنی ہی سعادت کافی ہےپل دو پل تم نے مجھ کو سنا اتنی ہی عنایت کافی ہےکل اور آئیں گے نغموں کی کھلتی کلیاں چننے والےمجھ سے بہتر کہنے والے تم سے بہتر سننے والےہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی آج اگتی ہے کل کٹتی ہےجیون وہ مہنگی مدرا ہے جو قطرہ قطرہ بٹتی ہےساگر سے ابھری لہر ہوں میں ساگر میں پھر کھو جاؤں گامٹی کی روح کا سپنا ہوں مٹی میں پھر سو جاؤں گاکل کوئی مجھ کو یاد کرے کیوں کوئی مجھ کو یاد کرےمصروف زمانہ میرے لیے کیوں وقت اپنا برباد کرے
کھلے پانیوں میں گھری لڑکیاںنرم لہروں کے چھینٹے اڑاتی ہوئیبات بے بات ہنستی ہوئیاپنے خوابوں کے شہزادوں کا تذکرہ کر رہی تھیںجو خاموش تھیںان کی آنکھوں میں بھی مسکراہٹ کی تحریر تھیان کے ہونٹوں کو بھی ان کہے خواب کا ذائقہ چومتا تھا!آنے والے نئے موسموں کے سبھی پیرہن نیلمیں ہو چکے تھے!دور ساحل پہ بیٹھی ہوئی ایک ننھی سی بچیہماری ہنسی اور موجوں کے آہنگ سے بے خبرریت سے ایک ننھا گھروندا بنانے میں مصروف تھیاور میں سوچتی تھیخدایا! یہ ہم لڑکیاںکچی عمروں سے ہی خواب کیوں دیکھنا چاہتی ہیںخواب کی حکمرانی میں کتنا تسلسل رہا ہے!
مجھے مت بتاناکہ تم نے مجھے چھوڑنے کا ارادہ کیا تھاتو کیوںاور کس وجہ سےابھی تو تمہارے بچھڑنے کا دکھ بھی نہیں کم ہواابھی تو میںباتوں کے وعدوں کے شہر طلسمات میںآنکھ پر خوش گمانی کی پٹی لیےتم کو پیڑوں کے پیچھے درختوں کے جھنڈاور دیوار کی پشت پر ڈھونڈنے میں مگن ہوںکہیں پر تمہاری صدا اور کہیں پر تمہاری مہکمجھ پہ ہنسنے میں مصروف ہےابھی تک تمہاری ہنسی سے نبرد آزما ہوںاور اس جنگ میںمیرا ہتھیاراپنی وفا پر بھروسہ ہے اور کچھ نہیںاسے کند کرنے کی کوشش نہ کرنامجھے مت بتانا.....
میں ایک گریزاں لمحہ ہوںایام کے افسوں خانے میںمیں ایک تڑپتا قطرہ ہوںمصروف سفر جو رہتا ہےماضی کی صراحی کے دل سےمستقبل کے پیمانے میںمیں سوتا ہوں اور جاگتا ہوںاور جاگ کے پھر سو جاتا ہوںصدیوں کا پرانا کھیل ہوں میںمیں مر کے امر ہو جاتا ہوں
کل ہمیشہ کی طرح اس نے کہا یہ فون پرمیں بہت مصروف ہوں مجھ کو بہت سے کام ہیںاس لیے تم آؤ ملنے میں تو آ سکتی نہیںہر روایت توڑ کر اس بار میں نے کہہ دیاتم جو ہو مصروف تو میں بھی بہت مصروف ہوںتم جو ہو مشہور تو میں بھی بہت معروف ہوںتم اگر غمگین ہو میں بھی بہت رنجور ہوںتم تھکن سے چور تو میں بھی تھکن سے چور ہوںجان من ہے وقت میرا بھی بہت ہی قیمتیکچھ پرانے دوستوں نے ملنے آنا ہے ابھیمیں بھی اب فارغ نہیں مجھ کو بھی لاکھوں کام ہیںورنہ کہنے کو تو سب لمحے تمہارے نام ہیںمیری آنکھیں بھی بہت بوجھل ہیں سونا ہے مجھےرتجگوں کے بعد اب نیندوں میں کھونا ہے مجھےمیں لہو اپنی اناؤں کا بہا سکتا نہیںتم نہیں آتیں تو ملنے میں بھی آ سکتا نہیںاس کو یہ کہہ کے وصیؔ میں نے ریسیور رکھ دیااور پھر اپنی انا کے پاؤں پہ سر رکھ دیا
ماں ہے ریشم کے کارخانے میںباپ مصروف سوتی مل میں ہےکوکھ سے ماں کی جب سے نکلا ہےبچہ کھولی کے کالے دل میں ہےجب یہاں سے نکل کے جائے گاکارخانوں کے کام آئے گااپنے مجبور پیٹ کی خاطربھوک سرمائے کی بڑھائے گاہاتھ سونے کے پھول اگلیں گےجسم چاندی کا دھن لٹائے گاکھڑکیاں ہوں گی بینک کی روشنخون اس کا دئیے جلائے گایہ جو ننھا ہے بھولا بھالا ہےصرف سرمائے کا نوالا ہےپوچھتی ہے یہ اس کی خاموشیکوئی مجھ کو بچانے والا ہے
اے وطن جوش ہے پھر قوت ایمانی میںخوف کیا دل کو سفینہ ہے جو طغیانی میںدل سے مصروف ہیں ہر طرح کی قربانی میںمحو ہیں جو تری کشتی کی نگہبانی میںغرق کرنے کو جو کہتے ہیں زمانے والےمسکراتے ہیں تری ناؤ چلانے والے
وہ کیسی عورتیں تھیںجو گیلی لکڑیوں کو پھونک کر چولہا جلاتی تھیںجو سل پر سرخ مرچیں پیس کر سالن پکاتی تھیںسحر سے شام تک مصروف لیکن مسکراتی تھیںبھری دوپہر میں سر اپنا جو ڈھک کر ملنے آتی تھیںجو پنکھے ہاتھ کے جھلتی تھیں اور بس پان کھاتی تھیںجو دروازے پہ رک کر دیر تک رسمیں نبھاتی تھیںپلنگوں پر نفاست سے دری چادر بچھاتی تھیںبصد اصرار مہمانوں کو سرہانے بٹھاتی تھیںاگر گرمی زیادہ ہو تو روح افزا پلاتی تھیںجو اپنی بیٹیوں کو سوئیٹر بننا سکھاتی تھیںسلائی کی مشینوں پر کڑے روزے بتاتی تھیںبڑی پلیٹوں میں جو افطار کے حصے بناتی تھیںجو کلمے کاڑھ کر لکڑی کے فریموں میں سجاتی تھیںدعائیں پھونک کر بچوں کو بستر پر سلاتی تھیںاور اپنی جا نمازیں موڑ کر تکیہ لگاتی تھیںکوئی سائل جو دستک دے اسے کھانا کھلاتی تھیںپڑوسن مانگ لے کچھ با خوشی دیتی دلاتی تھیںجو رشتوں کو برتنے کے کئی نسخے بتاتی تھیںمحلے میں کوئی مر جائے تو آنسو بہاتی تھیںکوئی بیمار پڑ جائے تو اس کے پاس جاتی تھیںکوئی تہوار ہو تو خوب مل جل کر مناتی تھیںوہ کیسی عورتیں تھیںمیں جب گھر اپنے جاتی ہوں تو فرصت کے زمانوں میںانہیں ہی ڈھونڈھتی پھرتی ہوں گلیوں اور مکانوں میںکسی میلاد میں جزدان میں تسبیح دانوں میںکسی بر آمدے کے طاق پر باورچی خانوں میںمگر اپنا زمانہ ساتھ لے کر کھو گئی ہیں وہکسی اک قبر میں ساری کی ساری سو گئی ہیں وہ
دھوپ میں تیزی نہیںایسے آتا ہے ہر اک جھونکا ہوا کا جیسےدست شفقت ہے بڑی عمر کی محبوبہ کااور مرے شانوں کو اس طرح ہلا جاتا ہےجیسے میں نیند میں ہوںعورتیں چرخے لیے بیٹھی ہیںکچھ کپاس اوٹتی ہیںکچھ سلائی کے کسی کام میں مصروف ہیں یوںجیسے یہ کام ہے دراصل ہر اک شے کی اساسایک سے ایک چہل کرتی ہےکوئی کہتی ہے مری چوڑیاں کھنکیں تو کھنکھاری مری ساسکوئی کہتی ہے بھری چاندنی آتی نہیں راسرات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کربات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کرلذت وصل ہے آزار، کوئی کہتی ہےمیں تو بن جاتی ہوں بیمار، کوئی کہتی ہےمیں بھی گھس آتا ہوں اس شیش محل میں دیکھوسب ہنسی روک کے کہتی ہیں نکالو اس کو
ترے آغوش میں بچپن کے ہم نے دن بتائے ہیںترے آنگن میں کتنا روئے کتنا مسکرائے ہیںیہاں مسرور آنکھوں میں نئے ارماں جگائے ہیںیہاں معصوم ہونٹوں سے ترانے ہم نے گائے ہیں
کچھ لوگجو میرے دل کو اچھے لگتے تھےعمروں کے ریلے میں آئےاور جا بھی چکےکچھ دھندوں میں مصروف ہوئےکچھ چوہا دوڑ میں جیتے گئےکچھ ہار گئےکچھ قتل ہوئےکچھ بڑھتی بھیڑ میںاپنے آپ سے دور ہوئےکچھ ٹوٹ گئے کچھ ڈوب گئے
اس بار وہ ملا تو عجب اس کا رنگ تھاالفاظ میں ترنگ نہ لہجہ دبنگ تھااک سوچ تھی کہ بکھری ہوئی خال و خط میں تھیاک درد تھا کہ جس کا شہید انگ انگ تھااک آگ تھی کہ راکھ میں پوشیدہ تھی کہیںاک جسم تھا کہ روح سے مصروف جنگ تھا
تہ نجوم، کہیں چاندنی کے دامن میںہجوم شوق سے اک دل ہے بے قرار ابھیخمار خواب سے لبریز احمریں آنکھیںسفید رخ پہ پریشان عنبریں آنکھیںچھلک رہی ہے جوانی ہر اک بن مو سےرواں ہو برگ گل تر سے جیسے سیل شمیمضیائے مہ میں دمکتا ہے رنگ پیراہنادائے عجز سے آنچل اڑا رہی ہے نسیمدراز قد کی لچک سے گداز پیدا ہےادائے ناز سے رنگ نیاز پیدا ہےاداس آنکھوں میں خاموش التجائیں ہیںدل حزیں میں کئی جاں بلب دعائیں ہیںتہ نجوم کہیں چاندنی کے دامن میںکسی کا حسن ہے مصروف انتظار ابھیکہیں خیال کے آباد کردہ گلشن میںہے ایک گل کہ ہے نا واقف بہار ابھی
مجھے تیرے تصور سے خوشی محسوس ہوتی ہےدل مردہ میں بھی کچھ زندگی محسوس ہوتی ہےیہ تاروں کی چمک میں ہے نہ پھولوں ہی کی خوشبو میںتری تصویر میں جو دل کشی محسوس ہوتی ہےتجھے میں آج تک مصروف درس و وعظ پاتا ہوںتری ہستی مکمل آگہی محسوس ہوتی ہےیہ کیا ممکن نہیں تو آ کے خود اب اس کا درماں کرفضائے دہر میں کچھ برہمی محسوس ہوتی ہےاجالا سا اجالا ہے تری شمع ہدایت کاشب تیرہ میں بھی اک روشنی محسوس ہوتی ہےمیں آؤں بھی تو کیا منہ لے کے آؤں سامنے تیرےخود اپنے آپ سے شرمندگی محسوس ہوتی ہےتخیل میں ترے نزدیک جب میں خود کو پاتا ہوںمجھے اس وقت اک طرفہ خوشی محسوس ہوتی ہےتو ہی جانے کہاں لے آئی مجھ کو آرزو تیرییہ منزل اب سراپا بے خودی محسوس ہوتی ہےکنولؔ جس وقت کھو جاتا ہوں میں اس کے تصور میںمجھے تو زندگی ہی زندگی محسوس ہوتی ہے
سارے دن کی تھکی،ویران اور بے مصرف رات کوایک عجیب مشغلہ ہاتھ آ گیا ہےاب وہ!سارے شہر کی آوارہ پرچھائیوں کوجسم دینے کی کوشش میں مصروف ہےمجھے معلوم ہےاگر گم نام پرچھائیوں کوان کی پہچان مل گئیتو شہر کے معزز اور عبادت گزار شریف زادےہم شکل پرچھائیوں کے خوف سےپرچھائیوں میں تبدیل ہو جائیں گےاوربے مصرف دن بھر کی تھکی ہوئی رات کوایک اور مشغلہ مل جائے گا
ابھی مجھ سے کسی کو محبت نہیں ہوئیسو دل کے باغ میں پھول بھی نہیں کھلےمجھے ہر عورت کے سینے پر پستاناور رانوں کے بیچ قوس نظر آتی ہےابھی محبت شروع نہیں ہوئیمیں ہر ہم بستری کے بعد بیزار ہو جاتا ہوںاور پھر سے اس کام کے لئے تیار ہو جاتا ہوںمیں پستانوں اور رانوں میںمحبت تلاش کرنے کے کار بے سود میں مصروف ہوںمحبت کے موسم تکعشرت کے رستے جایا جا سکتاتو میں کب کا پہنچ گیا ہوتانظر کرتا ہوں تو لگتا ہےزندگی سے کچھ اور بھی دور نکل آیا ہوںمجھے موت سے ڈر لگنے لگا ہےکیونکہ ابھی مجھ سے کسی کو محبت نہیں ہوئی
ہون ہو رہے ہیںیگیہ کے منتروں کی صداآگ میں جلنے والی سامگری کی بہت تیز بوہر طرف پھیل کر بس گئی ہے ہوا میںاور واوین کی قید میں جو خدا ہےلا مکاں سےجو ہوتا ہے ہوتا رہے گابیٹھا چپ چاپ سب دیکھتا ہےہم بھی کیوں نہ خدا کی طرح یونہی چپ سادھ لیںپیڑ پودوں کی مانند جیتے رہیںذبح ہوتے رہیں!وہ دعائیں جو بارود کی بو میں بس کربھٹکتی ہوئی زیر عرش بریں پھر رہی ہیںانہیں بھول جائیںزندگی کو خدا کی عطا جان کر ذہن ماؤف کر لیںیاوہ گوئی میں یا ذہنی ہذیان میں خود کو مصروف کر لیںان میں مل جائیں جو زندگی کوگوشت سے ساگ سے دال سے ناپتے ہیںمہ و سال سے ناپتے ہیںاپنا ہی خون پینے لگے ہیںچاک دامانیاں غم سے سینے لگے ہیں
آسماں آج اک بحر پر شور ہےجس میں ہر سو رواں بادلوں کے جہازان کے عرشے پہ کرنوں کے مستول ہیںبادبانوں کی پہنے ہوئے فرغلیںنیل میں گنبدوں کے جزیرے کئیایک بازی میں مصروف ہے ہر کوئیوہ ابابیل کوئی نہاتی ہوئیکوئی چیل غوطے میں جاتی ہوئیکوئی طاقت نہیں اس میں زور آزماکوئی بیڑا نہیں ہے کسی ملک کااس کی تہ میں کوئی آبدوزیں نہیںکوئی راکٹ نہیں کوئی توپیں نہیںیوں تو سارے عناصر ہیں یاں زور میںامن کتنا ہے اس بحر پر شور میں
زندگی بہت مصروف ہو گئی ہےجو خواب مجھے آج دیکھنا تھاوہ اگلی پیدائش تک ملتوی کرنا پڑا ہےبچپن میں لگے زخم پر مرہم رکھنے کے لیےڈاکٹر نے ابھی صرف وعدہ کیا ہےکل کے لیے سانسیں کماتے ہاتھصبح تک چائے نہیں پی سکتےلیکن گھبراؤ نہیںسب کی یہی حالت ہےوہ بتا رہی تھیاس نے اپنی سہاگ رات تب منائیجب وہ حیض کے برس گزار چکی تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books