aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tayyaara"
مرے صحن میں ایک کمسن بنفشے کا پودا ہےطیارہ کوئی کبھی اس کے سر پر سے گزرےتو وہ مسکراتا ہے اور لہلہاتا ہےگویا وہ طیارہ، اس کی محبت میںعہد وفا کے کسی جبر طاقت ربا ہی سے گزرا!وہ خوش اعتمادی سے کہتا ہےلو دیکھو، کیسے اسی ایک رسی کے دونوں کناروںسے ہم تم بندھے ہیں!یہ رسی نہ ہو تو کہاں ہم میں تم میںہو پیدا یہ راہ وصال؟مگر ہجر کے ان وسیلوں کو وہ دیکھ سکتا نہیںجو سراسر ازل سے ابد تک تنے ہیں!جہاں یہ زمانہ ہنوز زمانہفقط اک گرہ ہے!
کیوں گنہ گار بنوں ویزا فراموش رہوںکب تلک خوف زدہ صورت خرگوش رہوںوقت کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ خاموش رہوںہم نوا! میں کوئی مجرم ہوں کہ روپوش رہوں
خبر وحشت اثر تھیاسے ایسے لگاجیسے زمیں پاؤں کے نیچے سے سرکتی جا رہی ہےطبق ساتوں کے ساتوں آسماں کے اس کے سر پر آ گرے ہیںاک دھماکے سےنظر کے سامنے حد نظر تک ایک کالی دھند کےمنظر شکن پردےزمیں سے آسماں تک تن گئے ہیںہوا کے پاؤں میں من من کی زنجیریں پڑی ہیںادھر دل کو ٹٹولا تو لگا اسےکہ جیسے آسماں کی وسعتوں میں کوئی طیارہ گھرا ہوا آندھیوں میںاور گرداب ہوائی میں مسلسل پے بہ پے کھاتا ہو ہچکولےادھر چہرے کو دیکھا تو لگا ایسےکہ جیسے اس کتاب زندگی سےسارے حرفوں کی چمکتی روشنائی اڑ چکی ہوخلش ایسے تھی سینے میںکہ جیسے کوئی کانٹے دار جھاڑی پر مہین ململ کو بے دردی سے کھینچےاور تار و تار کر ڈالےلہو سارے بدن کا کھنچ کے آنکھوں کے شکستہ جام و مینا سےٹپکنا چاہتا تھااسے اس حال میں دیکھا تو آئینے چٹخ کر ریزہ ریزہ ہو گئےاور آرزو کے اس بہشت آباد کی سب چیزیںاپنے اپنے مرکز سے لگیں ہٹنےفلک کو چومنے والے کلس اور کنگرے پل پل بھر میں مٹی چاٹتے تھےاور دھرتی کی شکستہ جا بہ جا کٹ جانے والیسرد ریکھاؤں میں اپنے ٹھوکریں کھاتے مقدر ڈھونڈتے تھےدرخت اپنی جگہ سے ہل گئےاور ان کی شاخوں پر لدا سب بورپھل بننے سے پہلے جھڑ گیاغرض ہر شے پہ وحشت تھیخبر ہی اس قدر وحشت اثر تھیسنا ہے جب دلوں کی لہلہاتی کھیتیاں برباد ہوتی ہیںتو ایسے زلزلے آیا ہی کرتے ہیں
کبھی کبھی ہمابر میں ڈوبااک تارا بن جاتے ہیںشام کو گردش کرنے والاسیارہ بن جاتے ہیںچڑیا بننا چاہتے ہیںاور طیارہ بن جاتے ہیں
صبح ہوئی توگونج رہا تھاسادھو کا اکتاراجادو نگری اجڑ چکی تھیزرد پڑا جاتا تھا لاغراجڑا بوسیدہ سیارہسنتا ہوں ابپاس ہی جیسےکوچ کا بجتا ہے نقارااڑنے کو تیار ہے شایدایلومینیم کا راکٹپیتل کا طیارہ
اورہوائیںسکتے کے عالم میںکھڑی ہیںسمتیںبے زبان سیاک ایک کودیکھ رہی ہیںبلندی پر اڑتااعتماد کا طیارہضرورتوں کےپہاڑ سے ٹکراتاتوازن کھو بیٹھااور بکھر گیاپھر
تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھےمیری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیںمیرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیںمیرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
جب میں تمہیں نشاط محبت نہ دے سکاغم میں کبھی سکون رفاقت نہ دے سکاجب میرے سب چراغ تمنا ہوا کے ہیںجب میرے سارے خواب کسی بے وفا کے ہیںپھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کوئی حق نہیںتنہا کراہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں
ہم گھوم چکے بستی بن میںاک آس کی پھانس لیے من میںکوئی ساجن ہو کوئی پیارا ہوکوئی دیپک ہو، کوئی تارا ہوجب جیون رات اندھیری ہو
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیںیہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کرچلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیںفلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزلکہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحلکہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غم دلجواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سےچلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑےدیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سےپکارتی رہیں باہیں بدن بلاتے رہےبہت عزیز تھی لیکن رخ سحر کی لگنبہت قریں تھا حسینان نور کا دامنسبک سبک تھی تمنا دبی دبی تھی تھکن
یہ روگ لگا ہے جب سے ہمیں رنجیدہ ہوں میں بیمار ہے وہہر وقت تپش ہر وقت خلش بے خواب ہوں میں بے دار ہے وہجینے پہ ادھر بیزار ہوں میں مرنے پہ ادھر تیار ہے وہ
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہماراہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہماراغربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میںسمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہماراپربت وہ سب سے اونچا ہم سایہ آسماں کاوہ سنتری ہمارا وہ پاسباں ہماراگودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاںگلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارااے آب رود گنگا وہ دن ہے یاد تجھ کواترا ترے کنارے جب کارواں ہمارامذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھناہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارایونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سےاب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہماراکچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماریصدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارااقبالؔ کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میںمعلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری!دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے!ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے!ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینتجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گیلوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گےیہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنی پریشاں کیوں ہوجگمگاتے ہوئے لمحوں سے گریزاں کیوں ہوانگلیاں اٹھیں گی سوکھے ہوئے بالوں کی طرفاک نظر دیکھیں گے گزرے ہوئے سالوں کی طرفچوڑیوں پر بھی کئی طنز کیے جائیں گےکانپتے ہاتھوں پہ بھی فقرے کسے جائیں گےپھر کہیں گے کہ ہنسی میں بھی خفا ہوتی ہیںاب تو روحیؔ کی نمازیں بھی قضا ہوتی ہیںلوگ ظالم ہیں ہر اک بات کا طعنہ دیں گےباتوں باتوں میں مرا ذکر بھی لے آئیں گےان کی باتوں کا ذرا سا بھی اثر مت لیناورنہ چہرے کے تأثر سے سمجھ جائیں گےچاہے کچھ بھی ہو سوالات نہ کرنا ان سےمیرے بارے میں کوئی بات نہ کرنا ان سےبات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی
اس جان جہاں کو بھی یوں ہی قلب و نظر نےہنس ہنس کے صدا دی کبھی رو رو کے پکاراپورے کیے سب حرف تمنا کے تقاضےہر درد کو اجیالا ہر اک غم کو سنوارا
چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارامسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہماراتوحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارےآساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارادنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کاہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہماراتیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیںخنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارامغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماریتھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہماراباطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہمسو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارااے گلستان اندلس وہ دن ہیں یاد تجھ کوتھا تیری ڈالیوں میں جب آشیاں ہمارااے موج دجلہ تو بھی پہچانتی ہے ہم کواب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں ہمارااے ارض پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہمہے خوں تری رگوں میں اب تک رواں ہماراسالار کارواں ہے میر حجاز اپنااس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارااقبالؔ کا ترانہ بانگ درا ہے گویاہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
پڑھنے والوں کے ناموہ جو اصحاب طبل و علمکے دروں پر کتاب اور قلمکا تقاضا لیے ہاتھ پھیلائےوہ معصوم جو بھولے پن میںوہاں اپنے ننھے چراغوں میں لو کی لگنلے کے پہنچے جہاںبٹ رہے تھے گھٹا ٹوپ بے انت راتوں کے سائے
افلاس زدہ دہقانوں کے ہل بیل بکے کھلیان بکےجینے کی تمنا کے ہاتھوں جینے کے سب سامان بکے
اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارکاک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books