ابن انشا کی نظمیں

اردو ادب کا ایک انوکھا

شاعر، ابن انشا۔ ہم نے انکی کچھ نظموں کو اکٹھا کیا ہے۔ پڑھیں اور لطف اٹھایں۔

8.3K
Favorite

باعتبار

فرض کرو

فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں

ابن انشا

ایک بار کہو تم میری ہو

ہم گھوم چکے بستی بن میں

ابن انشا

سب مایا ہے

سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے

ابن انشا

اس بستی کے اک کوچے میں

اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا

ابن انشا

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں

ابن انشا

ایک لڑکا

ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں

ابن انشا

کل ہم نے سپنا دیکھا ہے

کل ہم نے سپنا دیکھا ہے

ابن انشا

کیا دھوکا دینے آؤگی

ہم بنجارے دل والے ہیں

ابن انشا

لوگ پوچھیں گے

لوگ پوچھیں گے کیوں اداس ہو تم

ابن انشا

دل اک کٹیا دشت کنارے

دنیا بھر سے دور یہ نگری

ابن انشا

لب پر نام کسی کا بھی ہو

لب پر نام کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشا ہے

ابن انشا

دروازہ کھلا رکھنا

دل درد کی شدت سے خوں گشتہ و سی پارہ

ابن انشا

چاند کے تمنائی

شہر دل کی گلیوں میں

ابن انشا

گھوم رہا ہے پیت کا پیاسا

دیکھ تو گوری کسے پکارے

ابن انشا

جھلسی سی اک بستی میں

ہاں دیکھا کل ہم نے اس کو دیکھنے کا جسے ارماں تھا

ابن انشا

دل پیت کی آگ میں جلتا ہے

دل پیت کی آگ میں جلتا ہے ہاں جلتا رہے اسے جلنے دو

ابن انشا

پچھلے پہر کے سناٹے میں

پچھلے پہر کے سناٹے میں

ابن انشا

اے مرے سوچ نگر کی رانی

تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیے

ابن انشا

یہ کون آیا

انشاؔ جی یہ کون آیا کس دیس کا باسی ہے

ابن انشا

یہ سرائے ہے

یہ سرائے ہے یہاں کس کا ٹھکانا ڈھونڈو

ابن انشا

پھر شام ہوئی

پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواں

ابن انشا

اے متوالو! ناقوں والو!!

اے متوالو ناقوں والو دیتے ہو کچھ اس کا پتا

ابن انشا

منی تیرے دانت کہاں ہیں

منی تیرے دانت کہاں ہیں

ابن انشا

کچھ دے اسے رخصت کر

کچھ دے اسے رخصت کر کیوں آنکھ جھکا لی ہے

ابن انشا

کاتک کا چاند

چاند کب سے ہے سر شاخ صنوبر اٹکا

ابن انشا

دل آشوب

یوں کہنے کو راہیں ملک وفا کی اجال گیا

ابن انشا

بلو کا بستہ

چھوٹی سی بلو

ابن انشا

یہ سرائے ہے

یہ سرائے ہے یہاں کس کا ٹھکانا ڈھونڈو

ابن انشا

میدو کا طوطا

تین ہماری بہنیں چھوٹی

ابن انشا