Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مراسلہ

نیر مسعود

مراسلہ

نیر مسعود

MORE BYنیر مسعود

    کہانی کی کہانی

    اس افسانہ میں ایک قدامت پسند گھرانے کی روایات، آداب و اطوار اور طرز رہائش میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر ہے، افسانہ کے مرکزی کردار کے گھر سے اس گھرانے کے گہرے مراسم ہوا کرتے تھے لیکن وقت اور مصروفیت کی دھول اس تعلق پر جم گئی۔ ایک طویل عرصے کے بعد جب واحد متکلم اس گھر میں کسی کام سے جاتا ہے تو ان کے طرز زندگی میں آنے والی تبدیلیوں پر حیران ہوتا ہے۔

    مکرمی! آپ کے موقر اخبار کے ذریعے میں متعلقہ حکام کو شہر کے مغربی علاقے کی طرف متوجہ کرانا چاہتا ہوں۔ مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج جب بڑے پیمانے پر شہر کی توسیع ہو رہی ہے اور ہر علاقے کے شہریوں کو جدید ترین سہولتیں بہم پہنچائی جا رہی ہیں، یہ مغربی علاقہ بجلی اور پانی کی لائنوں تک سے محروم ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس شہر کی تین ہی سمتیں ہیں۔ حال ہی میں جب ایک مدت کے بعد میرا اس طرف ایک ضرورت سے جانا ہوا تو مجھ کو شہر کا یہ علاقہ بالکل ویسا ہی نظر آیا جیسا میرے بچپن میں تھا۔

    (۱)

    مجھے اس طرف جانے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن اپنی والدہ کی وجہ سے مجبور ہو گیا۔ برسوں پہلے وہ بڑھاپے کے سبب چلنے پھرنے سے معذور ہو گئی تھیں، پھر ان کی آنکھوں کی روشنی بھی قریب قریب جاتی رہی اور ذہن بھی ماؤف سا ہو گیا۔ معذوری کا زمانہ شروع ہونے کے بعد بھی ایک عرصے تک وہ مجھ کو دن رات میں تین چار مرتبہ اپنے پاس بلا کر کپکپاتے ہاتھوں سے سر سے پیر تک ٹٹولتی تھیں۔ در اصل میرے پیدا ہونے کے بعد ہی سے ان کو میری صحت خراب معلوم ہونے لگی تھی۔ کبھی انھیں میرا بدن بہت ٹھنڈا محسوس ہوتا، کبھی بہت گرم، کبھی میری آواز بدلی ہوئی معلوم ہوتی اور کبھی میری آنکھوں کی رنگت میں تغیر نظر آتا۔ حکیموں کے ایک پرانے خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ان کو بہت سی بیماریوں کے نام اور علاج زبانی یاد تھے اور کچھ کچھ دن بعد وہ مجھے کسی نئے مرض میں مبتلا قرار دے کر اس کے علاج پر اصرار کرتی تھیں۔

    ان کی معذوری کے ابتدائی زمانے میں دو تین بار ایسا اتفاق ہوا کہ میں کسی کام میں پڑ کر ان کے کمرے میں جانا بھول گیا، تو وہ معلوم نہیں کس طرح خود کو کھینچتی ہوئی کمرے کے دروازے تک لے آئیں۔ کچھ اور زمانہ گذرنے کے بعد جب ان کی رہی سہی طاقت بھی جواب دے گئی تو ایک دن ان کے معالج نے محض یہ آزمانے کی خاطر کہ آیا ان کے ہاتھ پیروں میں اب بھی کچھ سکت باقی ہے، مجھے دن بھر ان کے پاس نہیں جانے دیا اور وہ بہ ظاہر مجھ سے بے خبر رہیں، لیکن رات گیے ان کے آہستہ آہستہ کراہنے کی آواز سن کر جب میں لپکتا ہوا ان کے کمرے میں پہنچا تو وہ دروازے تک کا آدھا راستہ طے کر چکی تھیں۔

    ان کا بستر، جو انھوں نے میرے والد کے مرنے کے بعد سے زمین پر بچھانا شروع کر دیا تھا، ان کے ساتھ گھسٹتا ہوا چلا آیا تھا۔ دیکھنے میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بستر ہی ان کو کھینچتا ہوا دروازے کی طرف لیے جا رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر انھوں نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن تکان کے سبب بے ہوش ہو گئیں اور کئی دن تک بے ہوش رہیں۔ ان کے معالج نے بار بار اپنی غلطی کا اعتراف اور اس آزمائش پر پچھتاوے کا اظہار کیا، اس لیے کہ اس کے بعد ہی سے میری والدہ کی بینائی اور ذہن نے جواب دینا شروع کیا، یہاں تک کہ رفتہ رفتہ ان کا وجود اور عدم برابر ہو گیا۔

    ان کے معالج کو مرے ہوئے بھی ایک عرصہ گذر گیا۔ لیکن حال ہی میں ایک رات میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ وہ میرے پائینتی زمین پر بیٹھی ہوئی ہیں اور ایک ہاتھ سے میرے بستر کو ٹٹول رہی ہیں۔ میں جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔

    ’’آپ۔۔۔؟‘‘ میں نے ان کے ہاتھ پر خشک رگوں کے جال کو دیکھتے ہوئے پوچھا، ’’یہاں آ گئیں؟‘‘

    ’’تمھیں دیکھنے۔ کیسی طبیعت ہے؟‘‘ انھوں نے اٹک اٹک کر کہا، پھر ان پر غفلت طاری ہو گئی۔

    میں بستر سے اتر کر زمین پر ان کے برابر بیٹھ گیا اور دیر تک ان کو دیکھتا رہا۔ میں نے ان کی اس صورت کا تصور کیا جو میری اولین یادوں میں محفوظ تھی اور چند لمحوں کے لیے ان کے بوڑھے چہرے کی جگہ انھیں یادوں والا چہرہ میرے سامنے آ گیا۔ اتنی دیر میں ان کی غفلت کچھ دور ہوئی۔ میں نے آہستگی سے انھیں اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا، ’’آئیے آپ کو آپ کے کمرے میں پہنچا دوں۔‘‘

    ’’نہیں!‘‘ انھوں نے بڑی مشکل سے کہا، ’’پہلے بتاؤ۔‘‘

    ’’کیا بتاؤں؟‘‘ میں نے تھکے ہوئے لہجے میں پوچھا۔

    ’’طبیعت کیسی ہے؟‘‘

    کچھ دن سے میری طبیعت واقعی خراب تھی، اس لیے میں نے کہا، ’’ٹھیک نہیں ہوں۔‘‘ میری توقع کے خلاف انھوں نے بیماری کی تفصیل دریافت کرنے کے بجائے صرف اتنا پوچھا، ’’کسی کو دکھایا؟‘‘

    ’’کس کو دکھاؤں؟‘‘

    مجھے معلوم تھا وہ کیا جواب دیں گی۔ یہ جواب وہ فوراً اور ہمیشہ تیز لہجے میں دیتی تھیں، لیکن اس بار انھوں نے دیر تک چپ رہنے کے بعد بڑی افسردگی اور قدرے مایوسی کے ساتھ وہی بات کہی، ’’تم وہاں کیوں نہیں چلے جاتے؟‘‘

    میں ان کے ساتھ بچپن میں وہاں جایا کرتا تھا۔ وہ پرانے حکیموں کا گھرانہ تھا۔ یہ لوگ میری والدہ کے قریبی عزیز تھے۔ ان کا مکان بہت بڑا تھا جس کے مختلف درجوں میں کئی خاندان رہتے تھے۔ ان سب خاندانوں کے سربراہ ایک حکیم صاحب تھے جنھیں شہر میں کوئی خاص شہرت حاصل نہیں تھی لیکن آس پاس کے دیہاتوں سے ان کے یہاں اتنے مریض آتے تھے جتنے شہر کے نامی ڈاکٹروں کے پاس بھی نہ آتے ہوں گے۔

    اس مکان میں تقریبیں بہت ہوتی تھیں جن میں میری والدہ کو خاص طور پر بلایا جاتا تھا اور اکثر وہ مجھے بھی ساتھ لے جاتی تھیں۔ میں ان تقریبوں کی عجیب عجیب رسموں کو بڑی دل چسپی سے دیکھتا تھا۔ میں یہ بھی دیکھتا تھا کہ وہاں میری والدہ کی بڑی قدر ہوتی ہے اور ان کے پہنچتے ہی سارے مکان میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ وہ خود بھی وہاں کے کسی فرد کو فراموش نہ کرتیں، چھوٹوں اور برابر والوں کو اپنے پاس بلاتیں، بڑوں کے پاس آپ جاتیں اور وہاں کے خاندانی جھگڑوں میں، جو اکثر ہوا کرتے، ان کا فیصلہ سب کو منظور ہوتا تھا۔

    وہاں اتنے بہت سے لوگ تھے، لیکن مجھ کو صرف حکیم صاحب کا چہرہ دھندلا دھندلا سا یاد تھا؛ وہ بھی شاید اس وجہ سے کہ ان میں اور میری والدہ میں ہلکی سی خاندانی مشابہت تھی۔ اتنا مجھے البتہ یاد ہے کہ وہاں ہر عمر کی عورتیں، مرد اور بچے موجود رہتے تھے اور ان کے ہجوم میں گھری ہوئی اپنی والدہ مجھے ایسی معلوم ہوتی تھیں جیسے بہت سی پتیوں کے بیچ میں ایک پھول کھلا ہوا ہو۔

    لیکن اس وقت وہ اپنا مرجھایا ہوا چہرہ میری طرف گھمائے ہوئے اپنی بجھی ہوئی آنکھوں سے میرا چہرہ دیکھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

    ’’تمھاری آواز بیٹھی ہوئی ہے۔ چکنائی والی چیزیں نہ کھایا کرو۔‘‘ انھوں نے کہا،اور پھر کہا، ’’تم وہاں کیوں نہیں چلے جاتے؟‘‘

    ’’وہاں۔۔۔ اب میں وہاں کسی کو پہچان بھی نہ پاؤں گا۔‘‘

    ’’دیکھو گے تو پہچان لو گے۔ نہیں تو وہ لوگ خود بتائیں گے۔‘‘

    ’’اتنے دن ہو گیے۔‘‘ میں نے کہا، ’’اب مجھے راستہ بھی یاد نہیں۔‘‘

    ’’باہر نکلو گے تو یاد آتا جائے گا۔‘‘

    ’’کس طرح؟‘‘ میں نے کہا، ’’سب کچھ تو بدل گیا ہو گا۔‘‘

    ’’کچھ بھی نہیں‘‘ انھوں نے کہا۔ پھر ان پر غفلت طاری ہونے لگی، لیکن ایک بار پھر انھوں نے کہا، ’’کچھ بھی نہیں۔‘‘ اس کے بعد وہ بالکل غافل ہو گئیں۔

    میں دیر تک ان کو سہارا دیے بیٹھا رہا۔ میں نے اس مکان کا راستہ یاد کرنے کی کوشش کی۔ میں نے ان دنوں کا تصور کیا جب میں اپنی والدہ کے ساتھ وہاں جایا کرتا تھا۔ میں نے اس مکان کا نقشہ بھی یاد کرنے کی کوشش کی لیکن مجھے اس کے سوا کچھ یاد نہ آیا کہ اس کے صدر دروازے کے سامنے ایک ٹیلہ تھا جو حکیموں کا چبوترا کہلاتا تھا۔ اتنا اور مجھے یاد تھا کہ حکیموں کا چبوترا شہر کے مغرب کی جانب تھا، اس پر چند کچی قبریں تھیں اور اس تک پہنچتے پہنچتے شہر کے آثار ختم ہو جاتے ہیں۔

    میں نے اپنی والدہ کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا لیا۔ بالکل اسی طرح جیسے کبھی وہ مجھ کو اٹھایا کرتی تھیں، اور یہ سمجھا کہ میں نے ان کا کچھ قرض اتارا ہے، اور اگر چہ وہ بالکل غافل تھیں، لیکن میں نے ان سے کہا، ’’آئیے آپ کو آپ کے کمرے میں پہنچا دوں۔ کل سویرے میں وہاں ضرور جاؤں گا۔‘‘

    دوسرے دن سورج نکلنے کے کچھ دیر بعد میری آنکھ کھلی، اور آنکھ کھلنے کے کچھ دیر بعد میں گھر سے روانہ ہو گیا۔

    (۲)

    خود اپنے محلے کے مغربی حصے کی طرف ایک مدت سے میرا گذر نہیں ہوا تھا۔ اب جو میں ادھر سے گذرا تو مجھے بڑی تبدیلیاں نظر آئیں۔ کچے مکان پکے ہو گیے تھے۔ خالی پڑے ہوئے احاطے چھوٹے چھوٹے بازاروں میں بدل گیےتھے۔ ایک پرانے مقبرے کے کھنڈر کی جگہ عمارتی لکڑی کا گودام بن گیا تھا۔ جن چہروں سے میں بہت پہلے آشنا تھا ان میں سے کوئی نظر نہیں آیا، اگرچہ مجھ کو جاننے والے کئی لوگ ملے جن میں سے کئی کو میں بھی پہچانتا تھا، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ میرے ہی ہم محلہ ہیں۔ میں نے ان سے رسمی باتیں بھی کیں لیکن کسی کو یہ نہیں بتایا کہ میں کہاں جا رہا ہوں۔

    کچھ دیر بعد میرا محلہ پیچھے رہ گیا۔ غلّے کی منڈی آئی اور نکل گئی۔ پھر دواؤں اور مسالوں کی منڈی آئی اور پیچھے رہ گئی۔ ان منڈیوں کے داہنے بائیں دور دور تک پختہ سڑکیں تھیں جن پر کھانے پینے کی عارضی دکانیں بھی لگی ہوئی تھیں، لیکن میں جس سڑک پر سیدھا آگے بڑھ رہا تھا اس پر اب جا بجا گڈھے نظر آ رہے تھے۔ کچھ اور آگے بڑھ کر سڑک بالکل کچی ہو گئی۔ راستہ یاد نہ ہونے کے باوجود مجھے یقین تھا کہ میں صحیح سمت میں جا رہا ہوں، اس لیے میں آگے بڑھتا گیا۔

    دھوپ میں تیزی آ گئی تھی اور اب کچی سڑک کے آثار بھی ختم ہو گیے تھے، البتہ گرد آلود پتیوں والے درختوں کی دو رویہ مگر ٹیڑھی میڑھی قطاروں کے درمیان اس کا تصور کیا جا سکتا تھا، لیکن اچانک یہ قطاریں اس طرح منتشر ہوئیں کہ سڑک ہاتھ کے پھیلے ہوئے پنجے کی طرح پانچ طرف اشارہ کر کے رہ گئی۔ یہاں پہنچ کر میں تذبذب میں پڑ گیا۔ مجھے گھر سے نکلے ہوئے بہت دیر نہیں ہوئی تھی اور مجھے یقین تھا کہ میں اپنے محلے سے بہت دور نہیں ہوں۔ پھر بھی میں نے وہاں پر ٹھہر کر واپسی کا راستہ یاد کرنے کی کوشش کی۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ گرد آلود پتیوں والے درخت اونچی نیچی زمین پر ہر طرف تھے۔ میں نے ان کی قطاروں کے درمیان سڑک کا تصور کیا تھا لیکن وہ قطاریں بھی شاید میرے تصور کی پیداوار تھیں، اس لیے کہ اب ان کا کہیں پتا نہ تھا۔

    اپنے حساب سے میں بالکل سیدھی سڑک پر چلا آ رہا تھا، لیکن مجھے بارہا اس کا تجربہ ہو چکا تھا کہ دیکھنے میں سیدھی معلوم ہونے والی سڑکیں اتنے غیر محسوس طریقے پر اِدھر اُدھر گھوم جاتی ہیں کہ ان پر چلنے والے کو خبر بھی نہیں ہوتی اور اس کا رخ کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ یہاں تک پہنچتے پہنچتے میں کئی مرتبہ اِدھر اُدھر گھوم چکا ہوں، اور اگر مجھ کو سڑک کا سراغ نہ مل سکا تو میں خود سے اپنے گھر تک نہیں پہنچ سکتا؛ لیکن اس وقت مجھ کو واپسی کے راستے سے زیادہ حکیموں کے چبوترے کی فکر تھی جو کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ہر طرف پھیلے ہوئے درخت اتنے چھدرے تھے کہ زمین کا کوئی بڑا حصہ میری نگاہوں سے اوجھل نہیں تھا، لیکن میرے بائیں ہاتھ زمین دور تک اونچی ہوتی گئی تھی اور اس پر جگہ جگہ گنجان جھاڑیاں آپس میں الجھی ہوئی تھیں۔ ان کی وجہ سے بلندی کے دوسری طرف والا نشیبی حصہ نظر نہیں آتا تھا۔

    اگر کچھ ہو گا تو ادھر ہی ہو گا، میں نے سوچا اور اس سمت چل پڑا۔ میرا خیال صحیح تھا۔ جھاڑیوں کے ایک بڑے جھنڈ میں سے نکلتے ہی مجھے سامنے کتھئی رنگ کی پتلی پتلی اینٹوں والا ایک مکان نظر آیا۔ یہ وہ مکان نہیں تھا جس کی مجھے تلاش تھی، تاہم میں سیدھا اس طرف بڑھتا گیا۔ اس کے دروازے پر کسی کے نام کی تختی لگی ہوئی تھی جس کے قریب قریب سب حروف مٹ چکے تھے۔ مکان کے اندر خاموشی تھی لیکن ویسی نہیں جیسی ویران مکانوں سے باہر نکلتی محسوس ہوتی ہے، اس لیے میں نے دروازے پر تین بار دستک دی۔ کچھ دیر بعد دروازے کے دوسری طرف ہلکی سی آہٹ ہوئی اور کسی نے آہستہ سے پوچھا، ’’کون صاحب ہیں؟‘‘

    بتانے سے کیا فائدہ؟ میں نے سوچا، اور کہا، ’’میں شاید راستہ بھول گیا ہوں، حکیموں کا چبوترا ادھر ہی کہیں ہے؟‘‘

    ’’حکیموں کا چبوترا؟ آپ کہاں سے آئے ہیں؟‘‘

    یہ غیر متعلق بات تھی۔ اپنے سوال کے جواب میں سوال سن کر مجھے ہلکی سی جھنجھلاہٹ محسوس ہوئی، لیکن دروازے کے دوسری طرف کوئی عورت تھی جس کی آواز نرم اور لہجہ بہت مہذب تھا۔ اس نے دروازے کے خفیف سے کھلے ہوئے پٹ کو پکڑ رکھا تھا۔ اس کے ناخن نارنجی پالش سے رنگے ہوئے تھے۔ مجھے وہم سا ہوا کہ دروازے کا پٹ تھوڑا اور کھلا اور ایک لمحے کے اندر مجھ کو دروازے کے پیچھے چھوٹی سی نیم تاریک ڈیوڑھی اور ڈیوڑھی کے پیچھے صحن کا ایک گوشہ اور اس میں لگے ہوئے انار کے درخت کی کچھ شاخیں نظر آ گئیں جن پر دھوپ پڑ رہی تھی۔ اور دوسرے لمحے مجھے کچھ کچھ یاد آیا کہ میری والدہ کبھی کبھی تھوڑی دیر کے لیے اس مکان میں بھی اترتی تھیں۔ لیکن اس مکان کے رہنے والے مجھے یاد نہ آ سکے۔

    ’’آپ کہیں باہر سے آئے ہیں؟‘‘ دروازے کے دوسری طرف سے پھر آواز آئی۔

    ’’جی نہیں!‘‘ میں نے کہا اور اپنا اتا پتا بتا دیا۔ پھر کہا، ’’بہت دنوں کے بعد ادھر آیا ہوں۔‘‘

    دیر کے بعد مجھے جواب ملا، ’’اس مکان کے پیچھے چلے جائیے۔ چبوتر