Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کیمیا گر

محمد مجیب

کیمیا گر

محمد مجیب

MORE BYمحمد مجیب

    کہانی کی کہانی

    یہ ترکی سے ہندوستان میں آ بسے ایک حکیم کی کہانی ہے، جو اپنے پورے خلوص اور اچھے اخلاق کے باوجود بھی یہاں کہ مٹی میں گھل مل نہیں پاتا۔ گاؤں کی ہندو آبادی اس کا پورا احترام کرتی ہے، مگر وہ انہیں کبھی اپنا محسوس نہیں کر پاتا ہے۔ پھر گاؤں میں ہیضہ پھیل جاتا ہے اور وہ اپنے بیوی بچوں کو لیکر گاؤں چھوڑ دیتا ہے۔ رات میں اسے سپنے میں کیمیا گر دکھائی دیتا ہے، جس کے ساتھ کی گفتگو اس کے پورے نظریے کو بدل دیتی ہے اور وہ واپس گاؤں لوٹ کر لوگوں کے علاج میں لگ جاتا ہے۔

    حکیم مسیح ترکستان سے اپنی بوڑھی ماں کو ساتھ لے کر ہندوستان آئے تھے، دہلی پہنچے تو انہیں حکم ملا کہ جونپور کی طرف کچھ اور نووارد ترکی خاندانوں کے ساتھ ایک بڑے گاؤں میں جس کا خالد پور نام رکھا گیا تھا، مسلمان آبادی کی بنیاد ڈالیں۔ حکیم مسیح نے حکم کی تعمیل کی اور خالد پور میں جا بسے۔ رفتہ رفتہ دوسرے خاندان بھی آ گئے اور مسلمانوں کی ایک مستقل آبادی ہو گئی۔ حکیم مسیح نے دنیا کے تقریباً تمام مشہور طبیبوں کی شاگردی کی تھی اور اپنے فن میں ماہر تھے۔ اس لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہ تھی کہ وہ تھوڑے دنوں میں آس پاس مشہور ہو گئے اور ترکستان میں ان کے خاندان نے جو کچھ کھویا تھا ہو ہندوستان میں انہیں ملنے لگا۔ ان کی ماں نے ایک ترکی رئیس کی بیٹی سے ان کی شادی بھی کرا دی جس سے انہیں شرافت اور سرمایہ داری کا تمغہ مل گیا۔

    حکیم مسیح نہایت حسین، خوش مزاج اور شائستہ آدمی تھے۔ دنیا کی مصیبتیں ان کی طبیعت میں ترشی یا تلخی نہیں پیدا کر سکی تھیں، وہ اونچ نیچ دیکھ چکے تھے، خود ہمدردی کی تلاش میں رہ چکے تھے اور اب ہر ایک سے اچھا سلوک کرنے پر تیار تھے۔ تجربے نے انہیں انسان کی فطرت کے بھید بتا دئیے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ محبت سے بات کرنے کا کیا اثر ہوتا ہے، مریض کو دوا سے کتنا فائدہ پہنچتا ہے اور طبیب کے اخلاق سے کتنا۔ ان کا برتاؤ بیماروں اور تیمارداروں کے ساتھ ایسا تھا کہ لوگ محض ان کی توجہ کو کافی سمجھتے تھے لیکن وہ مرض کی تشخیص بھی بہت سوچ سمجھ کر کرتے تھے اور دوائیں نہایت احتیاط سے اکثر اپنے سامنے تیار کراتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کی ناکامی کی وجہ علاوہ تقدیر کے اور کوئی نہیں سمجھی جاتی تھی۔

    لیکن حکیم مسیح باوجود اپنی ہر دلعزیزی اور شہرت کے اپنی زندگی سے مطمئن نہ تھے، کچھ اپنے وطن کی یاد بے چین کرتی تھی، کچھ ہندوستان کی فضاء مگر سب سے زیادہ انہیں یہ خیال ستاتا تھا کہ اب وہ دنیا جتنی دیکھنی تھی دیکھ چکے ہیں کیونکہ ہندوستان سے واپس جانا ممکن نہیں اور وہ یہیں مریں گے اور یہیں دفن ہوں گے۔ ان کا دل ہر قسم کے تعصب سے پاک تھا۔ لیکن پھر بھی وہ ہندوؤں کو نہ اپنے جیسے آدمی سمجھ سکتے تھے نہ ہندوستان کو اپنے وطن جیسا ملک۔ ان پر کچھ اثر ان کی بیوی اور ان کے سسرال کا بھی تھا۔ یہ لوگ کسی مجلس کو بغیر اپنے ملک کی یاد میں نوحہ خوانی کئے نہیں برخاست کرتے تھے اور بغیر ہندو قوم اور ہندو مذہب پر لعنت بھیجے کسی مسئلے پر گفتگو نہیں کر سکتے تھے۔ حکیم مسیح کو ہندوؤں سے اس قدر سابقہ پڑتا تھا اور ہندو ان کی اس قدر عزت، ان سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ ان کا اپنی سسرال والوں کا ہم خیال ہونا ناممکن ہو جاتا، لیکن ان لوگوں کے تعصب کا اتنا اثر تو ضرور ہوا کہ حکیم مسیح نہ ہندوؤں میں اس طرح گھل مل سکے جیسا کہ ان کی فطرت کا تقاضا تھا اور نہ ہندوستان کے زمین و آسمان کو اپنا وطن بنا سکے، عزت اور شہرت حاصل کرنے پر بھی ان کو اس کا ارمان رہ گیا کہ ایک دم بھر کے لیے بھی طبیعت میں سکون پیدا کر سکیں، وہ اپنی زندگی کو مستقل یا اپنے گھر کو گھر سمجھ سکیں۔

    یوں ہی دن گزرتے گئے، حکیم مسیح کی ماں کا انتقال ہو گیا اور وہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہوئیں جو آبادی کے ساتھ رفتہ رفتہ بڑھ رہا تھا لیکن حکیم مسیح کو کسی طرح سے یقین نہ آ سکا کہ ہندوستان میں ان کی نسل نے جڑ پکڑ لی ہے اور ان کی روحانی بےچینی انہیں پریشان کرتی رہی۔

    ’’کاش مجھے ایک ایسا کیمیا گر ملتا‘‘ انہوں نے اپنی بیوی سے ایک دن کہا، ’’جو میری فطرت میں اس سر زمین سے مناسبت پیدا کر دیتا۔ آخر میں کب تک اپنے آپ کو مسافر یا مہمان سمجھتا رہوں گا۔‘‘

    اس کے جواب میں ان کی بیوی نے آنکھیں نکالیں اور طنز سے کہا۔

    ’’جب جوانی تھی تو ہمت ہارے بیٹھے رہے اب بڑھاپے میں کیمیاگر کی تلاش ہے۔ جو ارادے کا کمزور ہو اس کی مدد کرنا قادر مطلق کے امکان سے بھی باہر ہے۔‘‘

    حکیم مسیح مسکرائے، ایک ٹھنڈی سانس بھری اور خاموش ہو گئے۔

    اس گفتگو کے کچھ دن بعد ہی ان کے مطب میں، ایک ہیضے کا مریض لایا گیا۔ حکیم صاحب نے اس کے لیے تو نسخہ لکھ دیا لیکن اپنے گھر کہلا بھیجا کہ خالدپور میں ہیضے کا اندیشہ ہے اور سب کو فوراً سفر کی تیار ی کرنا چاہیے۔ ان کے گھر سے دوسرے مسلمان گھرانوں میں خبر پہنچائی گئی اور ساری بستی میں کھلبلی مچ گئی۔ جب حکیم مسیح کے پاس شام تک اور مریض بھی پہنچے اور انہوں نے یہ اطلاع دی کہ وباء کا حملہ غالباً شدید ہونے والا ہے تو سب نے اسی رات بستی چھوڑ دینے کا تہیہ کر لیا۔ حکیم مسیح خود خالدپور میں ٹھہرنے کا ارادہ کر چکے تھے اور انہوں نے اپنی بیوی کو اس کی مصلحتیں سمجھانے کی بہت سی دلیلیں سوچ لی تھیں۔ مگر ان کی بیوی ان سے زیادہ دور اندیش ثابت ہوئیں اور جب وہ مغرب کے قریب قریب گھر کے اندر گئے تو انہوں نے دیکھا کہ تمام نوکر چاکر بوکھلائے ہوئے ادھر ادھر پھر رہے ہیں اور ان کی بیوی رو پیٹ رہی ہیں۔ پہلے تو انہیں یہ شبہ ہوا کہ شاید گھر میں کوئی ہیضے کا شکار بنا ہے۔ مگر جب بڑی دقت سے انہوں نے واقعہ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہ انہیں کا ماتم ہو رہا ہے ان کی بیوی نے محض اس اندیشے میں کہ وہ خالدپور چھوڑنے سے انکار کریں گے صرف خود رونا دھونا نہیں شروع کر دیا تھا بلکہ تمام محلے اور عزیزوں سے ان کی اس حماقت کی شکایت بھی کی تھی اور ہر ایک کو رو رو کر ان کے ارادے کی مخالفت پر آمادہ کر لیا تھا۔ حکیم مسیح کھڑے تدبیریں سوچ رہے تھے کہ ان کے خسر اور سالے آ گئے اور انہیں گھیر کر کھڑے ہو گئے۔ باری باری سے ایک سمجھاتا اور دوسرا ڈانٹتا تھا اور دونوں اس قدر گھبرائے ہوئے تھے کہ بہت دیر تک حکیم مسیح کو پتہ ہی نہ چلا کہ وہ کہہ کیا رہے تھے اور قبل اس کے کہ حکیم مسیح زبان ہلا سکیں دونوں نے ان کے ہاتھ پکڑ لیے خدا اور رسول اور مسلمانوں کی جانوں کی قسمیں دلائیں، ان کی جوان بیوی اور ننھے بچوں کی حفاظت کا فرض یاد دلایا اور آخر میں ہندو قوم پر لعنت بھیجی اور کہا کہ وہ اسی قابل ہے کہ دق اور ہیضے میں ہلاک ہو اور کسی مسلمان کو اس کو بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں نہ ڈالنی چاہیے۔

    اب حکیم مسیح سمجھے کہ اس عجیب و غریب تقریر کا مقصد کیا ہے اور انہوں نے جو دلیلیں اپنی بیوی کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے سوچ رکھی تھیں ان سے کہ لینا چاہا مگر ان کے خسر اور سالے نے ان کی ذرا سی خاموشی کو رضامندی قرار دیا اور چلا اٹھے۔

    ’’ارے وہ بیچارہ تو کچھ کہتا ہے نہیں، وہ خود جانے پر تیار ہے۔‘‘

    حکیم مسیح پھر کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن ان کی بیوی جو اپنے فریق کو مضبوط پاکر ان کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی تھیں کہنے لگیں،

    ’’آپ لوگوں کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ مجھے اطمینان اسی وقت ہوگا جب یہ خود اپنی زبان سے کہہ دیں کہ ہمارے ساتھ چلیں گے۔‘‘

    ’’چلیں گے کیوں نہیں۔‘‘ حکیم مسیح کے سالے نے کہا ’’تم سامان تیار کراؤ وہ اپنی مرضی سے نہ گئے تو ہم زبردستی لے جائیں گے۔‘‘

    یہ کہہ کر حکیم مسیح کے سالے نے اندر سفر کی تیاری کا دوبارہ حکم دیا اور حکیم مسیح کا ہاتھ پکڑکر انہیں باہر لے گئے۔ یہاں انہیں قائل کرنے کے لیے بہت سے مسلمان ہمسائے موجود تھے، بزرگ جن کی حکیم مسیح بہت عزت کرتے تھے، ہم عمر دوست جن کی صحبت کے بغیر ان کا زندہ رہنا دشوار تھا۔ یہ لوگ باری باری سے کبھی ایک ساتھ تقریریں کرتے رہے کبھی فرداً فرداً مگر حکیم مسیح نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔ انہوں نے اپنے دل میں یہ طے کر لیا تھا کہ ان کا خالدپور کے باشندوں کو اس طرح سے چھوڑ کر چلا جانا ایک شدید اخلاقی جرم ہے جس کا الزام نہ وہ اپنی بیوی پر لگا سکتے ہیں نہ رشتہ داروں پر۔ لیکن انہوں نے اس وقت کی بھی تصویر کھینچی جب خالد پور میں ایک مسلمان بھی باقی نہ رہا ہوگا، ان کے سارے دوست اور عزیز ہندوستان کی وسعت میں غائب ہو گئے ہوں گے، وہ طرز زندگی جس سے وہ مانوس تھے ناممکن ہو جائےگا۔ وہ خود اگر زندہ رہے تو گھر میں اکیلے بیٹھے دوائیں بناتے رہیں گے اور اگر مر گئے تو اکیلے دفن ہوں گے اور ان کے جنازے کی نماز تک پڑھنے کے لیے کوئی مسلمان نہ ہوگا۔ خالدپور چھوڑنا ان کے لیے ایک اخلاقی جرم ضرور تھا مگر ایسی زندگی برداشت کرنا ایک شدید اخلاقی جرم کی سزا بھگتنے سے بھی انہیں زیادہ دشوار معلوم ہوا۔ انہوں نے دل ہی دل میں دعا مانگی کہ انہیں زندگی کے مسائل سے جلد سبکدوش کیا جائے اور سر جھکاکر بیٹھ گئے۔

    جب رات کو مسلمان قافلہ بستی سے نکلا تو حکیم مسیح اس کے ساتھ تھے۔

    ان کو امید تھی کہ اپنے ضمیر کو وہ کسی طرح سے سمجھا بجھا کر منا لیں گے، لیکن بدقسمتی سے ان کی کوئی تدبیر نہ چلی۔ انہوں نے ہزار کوشش کی کہ گذشتہ زندگی کو بالکل بھول جائیں مگر ان کا تخیل قابو سے نکل گیا اور ہر لمحہ ایک نیا صدمہ پہنچانے لگا۔ ذرا کہیں کھٹ کھٹ کی آواز آئی اور انہیں خیال آیا کہ اس وقت معلوم نہیں کتنے لوگ جن کو ابھی اس کی خبر نہیں ملی ہے کہ حکیم مسیح انہیں مصیبت میں چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں ان کے دروازے کو کھڑے کھٹکھٹا رہے ہوں گے۔ کہیں کوئی بچہ رویا اور انہیں یاد آیا کہ ناگہانی موت کیسی بلا ہوتی ہے، خالد پور میں کتنے بچوں کی مائیں اس وقت ہاتھ مل مل کر کہہ رہی ہوں گی کہ اگر حکیم مسیح نہ چلے گئے ہوتے تو ان کے بچوں کی جان بچا لیتے۔ حکیم مسیح کی آنکھوں میں بارہا آنسو بھر آئے، سر چکرانے لگا، لیکن واپس جانے کی ہمت انہیں پھر بھی نہ ہوئی۔

    قافلے نے خالدپور سے کوئی دس کوس پر جا کر منزل کی۔ حکیم مسیح تھک کر چور ہو گئے تھے، لیکن انہیں یقین تھا کہ نیند کسی طرح نصیب نہ ہوگی اور ہوا بھی یہی۔ کچھ دیر کے لیے تو ان پر غفلت سی طاری ہو گئی جس سے ان کا تکان جاتا رہا، لیکن پھروہ پریشان خواب دیکھنے لگے۔ کبھی وہ پہاڑ کی چوٹی پر سے پھسل کر نیچے گرتے تھے، کبھی گھوڑے پر سوار ایک غار میں پھاند پڑتے تھے جس کی تہ میں ایک خوفناک تاریکی کے سوا کچھ نہ تھا۔ خواب ہی میں خیال آیا کہ وہ دہلی جا رہے ہیں، ایک تیز آندھی آئی جس میں ان کا گھوڑا کئی مرتبہ زمین پر سے اڑ گیا، اس کے بعد انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک وسیع میدان میں کھڑے ہیں، ان کے سامنے ایک پتلی لمبی سی سڑک ہے جو دور جاکر کالے بادلوں کی گھٹا میں گم ہو جاتی ہے، سڑک کے دونوں طرف ایک اونچی منڈیر ہے اور منڈیر کے بعد کھیتوں کا سلسلہ ہے جو کہیں ختم نہیں ہوتا۔ انہوں نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور کالی گھٹا کی طرف روانہ ہوئے۔ دہلی کا رخ وہی تھا۔

    تھوڑی دور چلنے کے بعد انہیں سامنے سڑک کے کنارے ایک سیاہ نقطہ سا نظر آیا، پاس پہنچے تو دیکھا کہ ایک آدمی غالباً سستانے کے لیے منڈیر پر بیٹھا ہے، انہوں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی اور آگے بڑھ گئے، مگر کوئی دس قدم چلنے کے بعد ان کا گھوڑا رک گیا اور ایڑ اور چابک بھی اسے جگہ سے نہ ہلا سکے، واپس جانے پر وہ تیار تھا، آگے معلوم ہوتا تھا کہ اسے مردہ لے جانا بھی مشکل ہوگا۔ حکیم مسیح سمجھے کہ وہ کسی چیز کو دیکھ کر بھڑک گیا ہے اور اس کا مزاج درست کرنے کے لیے وہ تھوڑی دور واپس جانے پر راضی ہو گئے۔ کہ کچھ دیر اسی مسافر سے باتیں کر لیں۔

    گفتگو شروع کرنے سے پہلے حکیم مسیح نے اسے غور سے دیکھا۔ مسافر کا لباس ایک خوش حال کاریگر کا سا تھا، یعنی ایک نیچی موٹے سوت کی دھوتی اور اتنے ہی موٹے کپڑے کی بنڈی اور ایک پگڑی جو اس نے اس وقت اتار کر اپنے پاس زمین پر رکھ دی تھی۔ اس کے کندھوں اور پیٹھ پر ایک موٹی سخت اون کی کملی پڑی ہوئی تھی۔ مسافر کا قد بہت لمبا تھا، سینہ چوڑا، پٹھے تنے اور ابھرے ہوئے جس کی وجہ سے پہلی نظر میں وہ ایک معمولی انسان نہیں بلکہ ایک زندہ فولاد کی ڈھلی ہوئی مورت معلوم ہوتا تھا، اس کی داڑھی کے لمبے سیدھے بال، اونچی پتلی ناک، چوڑی پیشانی، چہرے کا نمایاں سکون سب اسی وہم میں ڈالتے تھے کہ اس کا جسم آہنی ہے مگر آنکھوں کو دیکھ کر یہ سارا طلسم ٹوٹ جاتا اس کی بڑی بڑی نرگسی آنکھوں میں ایک نرمی اور محبت تھی جو اس کے جسم کی مضبوطی، اس کے قد و قامت پر حاوی تھی اور اسے دیکھنے والا فوراً سمجھ جاتا تھا کہ وہ اس کا دوست اور ہمدرد ہے اور یہ مجسمہء طاقت، مجسمہ محبت و ایثار ہے۔ حکیم مسیح پر بھی ان باتوں کا اثر ہوا۔ وہ جواب میں مسکرا دیے اور دیر تک مسافر کے مردانہ حسن کا لطف اٹھاتے رہے۔ آخرکار انہوں نے پوچھا۔

    ’’اے آہنی جسم کے مسافر تو کہاں جا رہا ہے؟‘‘

    مسافر نے پہلے سر جھکا لیا، پھر ان سے آنکھ لڑا کر مایوسی کے لہجے میں کہا،

    ’’خالدپور!‘‘

    ’’مگر وہاں تو ہیضہ ہے۔‘‘

    ’’ہاں، میں اسی لیے جا رہا ہوں۔‘‘

    حکیم مسیح کو اس قدر حیرت ہوئی کہ وہ تھوڑی دیر تک کچھ نہ کہہ سکے، لیکن مسافر نے انگڑائی لی اور انہیں اس خوب صورت مردانہ جسم پر رحم آیا جو جان بوجھ کر موت کو دعوت دے رہا تھا، انہوں نے بڑی حسرت سے مسافر کی طرف دیکھا اور پوچھا،

    ’’اے مسافر! کیا تجھے اپنی جان عزیز نہیں؟‘‘

    مسافرنے ٹھہر ٹھہر کر کہا ’’مجھے اپنی جان بہت عزیز ہے اور ہمیشہ رہے گی جتنی وہ مجھے عزیز ہے اتنی ہی وہ خدا کو زیادہ عزیز ہوگی، اگر میں نے اس کی راہ میں جان دی۔‘‘

    حکیم مسیح پھر چپ ہو گئے۔ مسافر کی صورت سے ظاہر تھا کہ اس کا قول پکا ہے۔ انہیں اپنی کمزوری یاد آئی اور اس بلند ہمت اور پختہ ارادے پر رشک آیا۔ لیکن انہوں نے سوچا کہ شاید یہ شخص دنیا میں اکیلا ہو اور انتہائی ایثار سے روکنے کے لیے کوئی دنیاوی تعلقات نہ ہوں۔ کچھ وہ اپنا بچاؤ بھی کرنا چاہتے تھے۔

    ’’اے مسافر! کیا دنیا میں تجھ سے محبت کرنے والا نہیں؟‘‘

    ’’محبت کا جواب محبت ہے جہاں جاتا ہوں مجھ سے محبت کرنے والے پیدا ہو جاتے ہیں۔ مگر محبت مجھے کبھی بھلائی سے نہیں روکتی۔‘‘

    آخری جملہ حکیم مسیح کے سینے میں تیر کی طرح لگا اور وہ بےتاب ہو گئے۔ انہوں نے گھبرا کر پوچھا،

    ’’اے مسافر تو کہاں سے آیا ہے؟‘‘

    ’’میں خدا کا بندہ ہوں، کسی ملک کا باشندہ نہیں۔‘‘ مسافر نے نہایت اطمینان سے جواب دیا، ’’جس ملک میں میرا خدا مجھے پہنچا دے وہی میرا وطن ہے۔ اس کی خدمت میرا فرض ہے۔‘‘

    ’’لیکن تیرا مکان تو ضرور کہیں ہوگا؟‘‘

    ’’دنیا میں ہزاروں خدا کے بندے ہیں جن کے پاس مکان، بیوی، بچے کچھ نہیں۔۔۔ میں جہاں تھکا وہیں بیٹھ جاتا ہوں، جہاں نیند لگی، میں سو جاتا ہوں۔‘‘

    ’’مگر مسافر! تیرے بیوی بچے ہوتے تو تو کیا کرتا؟‘‘

    ’’عورت کی محبت سے بہتر اور کوئی نعمت خدا نے انسان کو نہیں بخشی ہے۔ میرے اگر بیوی ہوتی تو میں سب سے پہلے اس کے قدموں میں گرتا اور اس سے کہتا کہ مجھ میں طاقت نہیں، ہمت نہیں، صرف تیری محبت مجھے سیدھے راستے پر چلا سکتی ہے۔ چل میری رہبری کر۔ میں تیرے بغیر بالکل مجبور ہوں۔‘‘

    ’’مگر مسافر، ہیضے کا علاج محبت سے کیونکر ہو سکتا ہے؟‘‘ حکیم مسیح نے مسافر کو ٹوک کر کہا۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے پر تیار تھے۔ بدن پسینے سے شل ہو گیا تھا۔

    ’’محبت ہر بیماری کا علاج ہے، ہر زخم کا مرہم ہے، محبت زندگی اور موت کا فرق مٹا دیتی ہے، ہر مشکل کو آسان کر دیتی ہے، انسان کی محبت میں خدا کی رحمت کی تاثیر ہوتی ہے تجھے یقین نہ آئے تو تجربہ کرکے دیکھ لے۔‘‘

    حکیم مسیح نے سرجھکا لیا اور زار و قطار رونے لگے۔

    ’’حکیم مسیح‘‘مسافر اچانک بول اٹھا ’’مسلمان کوئی کسی خاص ملک میں پیدا ہونے سے نہیں بنتا، اسلام کسی خاص طرز معاشرت کا نام نہیں۔ مسلمان بننا چاہتے ہو تو جاؤ خدا کو سجدہ کرو، دنیا کی مصیبتیں جھیلو، دوسروں کی خدمت کرو، ان پر سے زندگی کا بوجھ ہلکا کرو۔ تمہارے دل میں ایمان کا خزانہ ہے۔‘‘

    حکیم مسیح کی آنکھ کھل گئی۔ وہ اس قدر روئے تھے کہ تکیے بھیگ گئے تھے۔ لیکن ان کو اب نہ اپنی سرخ آنکھوں کی پروا تھی نہ تھکے ماندے جسم کی، انہوں نے ’’یارسول اللہ‘‘ کا نعرہ مارا، پلنگ پر سے اچک کر دوڑتے ہوئے اصطبل گئے اور ایک گھوڑے پر بغیر زین کے سوار ہو کر خالدپور کی طرف چل دئیے۔

    رات کو حکیم مسیح کے جانے کی خبر سن کر خالدپور کی آبادی میں اودھم مچ گئی۔ کسی میں اتنی ہمت باقی نہیں رہ گئی تھی کہ ہیضے سے بچنے کی امید کرے اور ہر شخص اپنا ماتم کرنے لگا۔ لیکن سویرے جب حکیم مسیح کی واپسی کی خبر مشہور ہوئی تو ہر ایک کی جان میں جان آ گئی، جس نے بھی یہ خبر سنی اپنا دل مضبوط کرنے کے لیے ان کے مطب میں بھاگا ہوا گیا اور اس نے حکیم مسیح کو دواخانے کے دروازے پر بیٹھا ہوا پایا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، شرمندگی سے ان کی نظریں نیچی ہو گئیں، مگر جس کسی نے چاہا نبض دکھائی اور دوا لی۔

    ادھر سویرے جب مسلمان قافلے نے کوچ کی تیاری کی تو معلوم ہوا کہ حکیم مسیح غائب ہیں۔ نوکروں میں سے ایک نے کہا کہ اس نے رات کو تیسرے پہر ’’یارسول اللہ‘‘ کا ایک نعرہ سنا تھا لیکن اس سے زیادہ وہ اور کچھ نہ بتا سکا۔ حکیم مسیح کی بیوی کو جب یہ معلوم ہوا تو فوراً سمجھ گئیں کہ وہ خالدپور بھاگ گئے ہیں۔ وہ بہت روئیں۔ اپنے دونوں بچوں کو بھائی کے سپرد کیا اور بیوہ کی زندگی سے بچنے کے لیے شوہر کے ساتھ مرنے کے لیے خالدپور چلیں۔

    جب وہ اپنے گھر پہنچیں تو شام ہو چکی تھی، دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ حکیم صاحب سویرے سے دوا خانے کے سامنے بیٹھے ہیں نہ پانی پیا ہے نہ کھانا کھایا ہے۔ بال پریشان ہیں، آنکھیں سرخ۔ لیکن مریضوں کا تانتا بندھا ہے اور برابر نبض دیکھ رہے ہیں اور دوائیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے نوکر کے ذریعہ خبر بھیجنا چاہا مگر نوکر کو حکیم صاحب کے پاس پہنچنے میں دیر لگی اور جب وہ پہنچ بھی گیا تو حکیم صاحب نے اسے نہ پہچانا نہ اس کی بات سمجھے، رات بھر انہوں نے حکیم صاحب کا نہایت بے تابی سے انتظار کیا، لیکن جب وہ سویرے تک نہیں آئے تو خود مطب پہنچیں۔ وہاں ابھی سے لوگ موجود تھے، لیکن انہیں دیکھ کر راستہ چھوڑ دیا اور وہ حکیم صاحب کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئیں، حکیم مسیح انہیں آسانی سے پہچان نہ سکے لیکن جب پہچان لیا تو مسکرائے، کچھ سوچا اور کہا،

    ’’محلے میں کچھ عورتیں بیمار پڑی ہیں، میں نے دوا بھیج دی ہے لیکن ان کی تیمار داری کے لیے کوئی نہیں، آپ وہاں چلی جائیں۔۔۔‘‘

    حکیم مسیح کی بیوی نے ان پر ایک سرسری نظر ڈالی، پچھلے دنوں کی تکان کا نام ونشان نہ تھا۔ آنکھیں اب بھی سرخ تھیں، مگر چہرے سے نور برس رہا تھا، کپڑوں پر کچھ مٹی لگی رہ گئی تھی جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ رات کو زمین پر سوئے ہیں۔ یہ ایک نظر کافی تھی۔ وہ باہر نکلیں اور راستہ پوچھتے پوچھتے جس محلہ کا حکیم مسیح نے نام بتایا تھا وہاں پہنچ گئیں۔

    خالدپور میں دو مہینے ہیضے کا دورہ رہا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بیماروں کا علاج کیا جاتا تھا لیکن بیماری کو روکنے کی کوئی تدبیر نہ تھی۔ لیکن حکیم مسیح نہ ہوتے تو غالباً ساری بستی تباہ ہو جاتی۔ ان کی موجودگی سے وہم اور خوف جو اکثر بیماری سے زیادہ مہلک ثابت ہوتے ہیں لوگوں کے دلوں میں جڑ نہ پکڑ سکے۔ کوئی مریض ایسا نہیں تھا جسے وہ دیکھ نہ سکے ہوں یا جس کی ہمت ان کے اخلاق اور ہمدردی نے دوگونہ نہ کی ہو۔ وہ دن رات مریضوں کو دیکھنے میں اور ان کے لیے دوائیں تیار کرنے میں مشغول رہتے تھے۔ لیکن یہ بھی انہیں اطمینان دلانے کے لیے کافی نہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ مردوں کو نہلانے دھلانے اور جنازے کو شہر سے باہر پہنچانے میں مدد کریں۔ مگر اس کام کے لیے ان کی کبھی ضرورت نہیں ہوئی، یہ ان کی بیوی نے اپنے ذمہ لے لیا تھا، جس کو وہ علاوہ عورتوں کی تیمارداری اور یتیم بچوں کی دیکھ بھال کے کرتی تھیں، اپنی اپنی مصروفیتوں کی وجہ سے اس زمانے میں حکیم مسیح اور ان کی بیوی اکثر ایک دوسرے کو دیکھ بھی نہ سکے۔ مگر بستی والوں کو ان دونوں سے اس قدر محبت ہوگئی تھی کہ غیروں کے ذریعے سے انہیں ایک دوسرے کی خبر پہنچتی رہتی تھی۔ کبھی کبھی ایسا ہوا کہ بیماری اور موت کی پریشانیوں میں دوسرے بھی انہیں بھول گئے اور ان کے ضمیر نے ملاقات کے لیے فرائض ترک کرنے کی اجازت نہ دی، مگر ان کے دلوں میں اس قدر قوی اور زندہ ایمان تھا کہ مایوسی خود غرضی یا خوف ان کے پاس نہ پھٹکنے پائے اور وقت اور فاصلہ ان کی روحوں کو جدا نہ کر سکے۔

    آخرکار ہیضے کا زور کم ہوا اور اب وہ حالت ممکن ہونے لگی جسے حکیم مسیح موت کی سزا سے زیادہ تکلیف دہ سمجھتے تھے، مریض کم ہوئے، کام کم ہوا، فرصت کا وقت بڑھا، مگر اب حکیم مسیح ہندو آبادی میں گھل مل گئے تھے۔ دو دیوار وہم نے ان کے اور ہندوؤں کے درمیان میں کھڑی کر دی تھی نیست و نابود ہو چکی تھی۔ بغیر کسی کوشش کے حکیم مسیح کا مکان بستی کی زندگی کا مرکز بن گیا تھا۔ ایک درگاہ جہاں حاجت مند مدد کے لیے آتے تھے۔ ماہران فن قدردانی اور ہمت افزائی کے لیے، مظلوم شکایت کے لیے اور جھگڑالو انصاف کے لیے، ان کی شہرت کا ڈھنڈورا دور دور تک پٹ چکا تھا، لوگ دور دور سے ان کے پاس آتے تھے اور دل میں اس کا افسوس واپس لے جاتے تھے کہ حکیم صاحب کافی مشہور نہیں، جس نے حکیم مسیح کا نام سنا وہ ان کی بیوی کی شخصیت سے بھی ضرور واقف ہو جاتا تھا۔

    خالدپور میں کوئی ایسا ذاتی یا عام معاملہ نہ تھا جس کا حکیم مسیح یا ان کی بیوی کو علم نہ ہو اور نہ کوئی ایسی تقریب تھی جس میں ان کی شرکت لازمی نہ سمجھی جاتی ہو، لیکن باوجود اس کے ان کی زندگی کا ایک پہلو تھا جس کا راز سوا ان کے اور ان کے خدا کے کسی پر ظاہر نہ تھا، لوگ انہیں مصروف دیکھتے تھے، انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ ان دونوں کے دل کہیں اور ہیں اور وہ محبت اور پیار کی نظریں جو وہ اوروں پر برساتے ہیں، اسی محبت کا ایک دھندلا عکس ہے، جس میں ان کی ہستیاں فنا ہو گئی ہیں، وہ دونوں بھی جانتے تھے کہ یہ محبت کوئی پرانی چیز نہیں ہے۔ خود بخود نہیں پیدا ہوئی اور ہر حالت میں قائم نہیں رہ سکتی، وہ یہ بھی جانتے تھے کہ یہی ان کی انسانیت کا جوہر ہے اور اگر وہ اس کی قیمت کم نہیں کرنا چاہتے، تو انہیں وہ آگ جلاتے رہنا چاہیے جس میں وہ پختہ ہوئی تھی، اس لیے جب حکیم مسیح نے دیکھا کہ ہیضہ انہیں بہت زیادہ مصروف نہیں رکھتا تو انہوں نے خالدپور کے باشندوں سے ایک مسجد بنانے کی اجازت مانگی، وہ اس پر بہت خوشی سے راضی ہو گئے، بلکہ مسجد اپنے خرچ سے بنوانے کی خواہش ظاہر کی، لیکن حکیم مسیح کو یہ منظور نہ ہوا، انہوں نے اپنی بیوی کی مدد سے تھوڑے دنوں میں ایک چھوٹی سی کچی مسجد ایک بڑے سایہ دار درخت کے نیچے تیار کر لی، جس میں صرف یہ خوبی تھی کہ اسے دو سچے حق پرستوں نے اپنے دین اور اپنی محبت کو پختہ رکھنے کے لیے بنایا تھا۔