پریم کہانی

احمد علی

پریم کہانی

احمد علی

MORE BYاحمد علی

    کہانی کی کہانی

    محبت کرنا جتنا ضروری ہے اس کا اظہار بھی اسی قدر ضروری ہے۔ اگر محبت کا اظہار نہیں ہوا تو آپ اپنے ہاتھوں محبت کا قتل کر دیں گے۔ یہ کہانی بھی ایسی ہی ایک محبت کے قتل کی داستان ہے۔ ایک ایسے نوجوان کی کہانی جو کسی لڑکی سے بے پناہ محبت کرتا ہے لیکن اپنی کم ہمتی کے باعث اس لڑکی سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کر پاتا ہے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لڑکی اس سے دور چلی جاتی ہے۔

    میں آج اس واقعہ کاحال سناتا ہوں۔ تم شاید یہ کہو کہ میں اپنے آپ کو دھوکا دے رہا ہوں۔ لیکن تم نے کبھی اس بات کا تو مشاہدہ کیا ہوگا کہ وہ شخص جو زندگی سے محبت کرتا ہے کبھی کبھی ایسی حرکتیں بھی کر بیٹھتا ہے جن سے سردمہری اور زندگی سے نفرت ٹپکتی ہے۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو زندگی نے کچھ ایسی ایذا پہنچائی ہے کہ وہ زندگی کی خواہش کو گھونٹ کر اس سے دور بھاگنے لگتا ہے اور اپنے گوشۂ عافیت میں اس کی راہوں کو بھول جاتا ہے۔ لیکن اس کی محبت کبھی مر نہیں سکتی اور اس کی آگ خوابوں کے کھنڈرات کی تہ میں اندر ہی سلگتی رہتی ہے۔ چونکہ خوابوں کی دنیا میں رہنے کی وجہ سے وہ زندگی سے بے بہرہ ہوجاتا ہے، اس لیے اپنی منزل مقصود کے قریب پہنچ کر وہ خوشی اور غرور سے اس قدر بھر جاتا ہے کہ اپنی سب تدبیروں کو خود ہی الٹا کردیتا ہے اور اس خیال میں کہ اب تو ماحصل مل گیا وہ اپنی محبوبہ کو بجائے خوش کرنے کے متنفر کردیتا ہے۔ بس یہی میرے ساتھ بھی ہوا۔

    اب اپنی زندگی کے حالات دہرانے سے کیا حاصل؟ تاہم تمہیں میری زندگی کا وہ لاجواب اور سوگوار زمانہ تو یاد ہوگا جب مجھے اس سے محبت تھی۔ مجھے تمہاری محبت بھری تسلی و تشفی خوب یاد ہے، لیکن اس کے باوجود بھی میں اپنے کیے کو نہ مٹا سکا۔ میں نے محبت کا خون محبت سے کرڈالا، اور حالانکہ میں اس وقت اپنے کو قاتل نہ سمجھتا تھامگر اب مجھے اپنے جرم کا یقین ہے۔ سماج اس قتل کو جرم قرار نہ دے گا کیونکہ سماج تو اخلاقی جرم پر سزا نہیں دیتا بلکہ سماجی جرم پر، نیت کی بناپر نہیں بلکہ ثبوت پر۔ لیکن اخلاقی جرم ہی سب سے خراب ہے۔ اور میں اپنے کو محبت اور زندگی دونوں کی نگاہوں میں مجرم پاتا ہوں۔ مرتے دم تک میں اس معصوم زمین پر گنہگاروں کی طرح اپنے ہمنواؤں اور رفیقوں سے منہ چھپاتا مارا مارا پھروں گا۔ پر افسوس! کہ میرا جرم محبت کے خلاف تھا اور مجھے منہ چھپانے کو بھی جگہ نہیں۔

    وہ اب مرچکی ہے اس لیے مجھے ہمت ہوئی کہ یہ داستان کہہ سناؤں۔

    یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ اس کی شروعات کس طرح ہوئی۔ میں اس سے دل و جان سے محبت کرتا تھا۔ اس کی بدولت وہ خزانہ میرے ہاتھ لگ گیا تھا جس کی تمنا سارے جہان کو تھی۔ جہاں بھی وہ جاتی، چاہے خریداری کرنے یا اپنی سہیلیوں سے ملنے، وہ مجھ کو ساتھ لے جاتی، اور میں ایک رفیق کتے کی طرح اس کے ساتھ ساتھ رہتا۔

    ’’بھئی میں اپنے گووندا کو بھی ساتھ لائی ہوں۔‘‘ وہ دور ہی سے چلا کر کہتی، اورمیں خوشی سے پھولا نہ سماتا۔ میری محبت ریگستانوں سے زیادہ وسیع اور سمندروں سے زیادہ گہری تھی۔ لیکن مجھ کو ایسا معلوم ہوتا کہ اس کی محبت میری محبت سے مل کر ایک عالم بن گئی ہے جس میں ستارے بھی ہیں اور دنیائیں بھی۔

    میں اسی طرح اس سے برسوں محبت کرتا رہا اور برسوں امید و یاس کی موجیں مجھے تھپیڑے مارتی رہیں۔ جب میں سونے لیٹتا تو اس کی صورت میری آنکھوں کے سامنے رقص کرتی اور جب سوجاتا تو خوابوں میں خوشنما پہاڑ اور دریا اور لالہ زار دکھائی دیتے۔ صبح جب آنکھ کھلتی تو ایک سریلا نغمہ میرے کانوں میں اس کے حسن کی موسیقی الاپنے لگتا۔ محبت کے خواب میں وہ راحت تھی کہ میں دنیا سے پرہیز کرنے لگا۔ وہ اکیلی میری دنیا تھی اور میری جنت۔ اور لوگ تو اس گلاب کو مسل دیتے تھے جومیرے دل کی گہرائی میں کھلا ہواتھا۔

    اپنے خواب کو سینہ سے لگائے میں تنہا پھرتا اور صرف پرندوں اور نرم ہوا سے گفتگو کرتا کیونکہ وہ میرے کانوں میں ہزاروں محبت کے پیغام لا لاکے سناتے تھے۔ میرے ساتھی شفق، چاند اور ستارے تھے جو آسمان پر اس طرح بکھر جاتے جیسے اس کے گالوں پر سرخی۔ اس کی موجودگی میری ہستی میں اس طرح سماگئی جیسے ماں کے پیٹ میں بچہ اپنے وجود کے احساس سے اس کو بھر دیتا ہے۔

    سورج کی گرمی میری محبت کے سامنے ہیچ تھی۔ خودغرضی کاخیال میرے دل میں کبھی نہ آیا کیونکہ محبت ایک حسین تخیل تھی اور جنس ایک بدنما دھبہ۔ جو سچ پوچھو تو محبت نے مجھ کو نامرد کردیا تھا۔ وہ بھی اپنے دل میں کیا کہتی ہوگی۔ میں نے اس بات کو قطعی بھلادیا تھا کہ وہ عورت ہے۔ میں ایک احمقوں کی جنت میں رہتا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ وہ دل آویز تھی پر موہوم اور غیرحقیقی بھی۔ محبت تو روح اور جسم دونوں کے احساسات کاسنگم ہے۔ اگر ان میں سے ایک چیز بھی کم و بیش ہوجائے تو محبت یاتو نفسانی خواہشات ہوکے رہ جاتی ہے یا ایک شاعر کا ناممکن خواب۔ مگر میں ابھی جوان تھا اور حقیقت سے بے بہرہ۔ ایک مرتبہ جب میرے بہترین دوست نے مجھ کو صلاح دی کہ اس کو پیار کرو تو میں بے آپے ہوگیا اور چانٹا رسید کیا۔ برسوں تک میں نے اس سے بات بھی نہ کی۔ ہمارا ملاپ اس وقت ہوا جب ایک روز میں رنج و الم سے چور شراب خانہ میں بیٹھا قدحے بھر بھر کر پی رہا تھا اور آنسوؤں کی لڑی آنکھوں سے جاری تھی۔ اگلی وفاؤں کے خیال سے اس نے آکر میرے شانہ پر ہاتھ رکھ دیا اور ہمارے دل پھر مل گیے۔

    حالانکہ یہ بات مجھے صحیح طور پر کبھی نہ معلوم ہوئی لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ مجھ سے محبت کرتی تھی۔ اس کے دل میں میرے لیے جگہ تھی، مگر میں نے خود ہی محبت کا خاتمہ محبت سے کردیا۔

    مارچ کی حسین شام تھی، اس نے نئی نئی سائیکل چلانی سیکھی تھی اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ گھومنے جاتی۔ ایک روز مجھ سے کہا کہ میرے ساتھ چلو۔ یہ کہہ کر اس نے مجھ کو وہ شرف بخشا جسے میں بھول نہیں سکتا۔ تمام دن ایک خواب کی سی حالت مجھ پہ طاری رہی۔ میں نے سائیکل صاف کی، تیل ڈالا، اور بار بار جاکے دیکھتا کہ کہیں ہوا تو نہیں نکل گئی؟ میں نے گھڑیاں گن گن کے کاٹیں اور پھر بھی آدھ گھنٹہ پہلے ہی نکل کھڑا ہوا۔ جب میں اس کے ہوسٹل پہنچا تو بہت سویرا تھا۔ وقت کاٹنے کو میں میلوں مارا مارا پھرا لیکن وقت کاٹے ہی نہ کٹتا تھا۔ میں لوٹ آتا اور پھر چلاجاتا۔ لمحے صبر ایوبی کی طرح گزر رہے تھے۔

    آخر کار وہ آہی گئی اور شرمائی ہوئی ہنسی ہنس ہنس کے سائیکل پر بیٹھی۔ شروع شروع میں تو وہ خودی کے احساس سے ڈرتی رہی، لیکن جب ہم سنسان سڑک پر پہنچ گیے تو اس کا ڈر نکل گیا۔

    ’’تم تو بڑی اچھی سائیکل چلاتی ہو۔‘‘ میں نے کہا۔

    ’’نہیں۔ ابھی تو ڈر لگتا ہے۔ مگر آج نہیں گروں گی۔ تم بچالوگے۔‘‘

    یہ کہہ کر اس نے میری طرف دیکھا۔ اس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں میں نرمی تھی، مجھ پر بھروسے اور اعتماد کایقین۔ میں یہ سمجھا کہ محبت تھی۔ اگر نہیں بھی تھی تو کیا۔ میں جب تک جیوں گا یہ خیال میرے دل میں پوشیدہ روشنی کی طرح چھپارہے گا اور کوئی بھی اس کی شمع کو گل نہیں کرسکتا۔ میں اس طرح خوشی سے پھول گیا جیسے میں نے اس کے دل پر قابو پالیا ہے اور نازاں ہوں۔ اس غرور سے میں خود اپنی نگاہ میں خوش قسمت معلوم ہونے لگا۔

    تھوڑی دیر کے بعد وہ تھک گئی۔ ہم پارک میں سے گزر رہے تھے اور اس نے کہا کہ آؤ بیٹھ جائیں۔ سورج غروب ہو رہا تھا اور