aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بین

MORE BYصدیق عالم

    کہانی کی کہانی

    یہ بارہ برس کے ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہےجو اپنی چچا زاد بہن انگورا جو عمر میں اس سے کئی سال بڑی تھی کو پسند کرتا تھا اور جس کے لیے اس کے اندر جنسی خواہشات کے جراثیم کلبلانے لگے تھے۔ چچا ریلوے میں انجن چلایا کرتے تھے۔ ان دنوں اس کی پوسٹنگ ایک دور استادہ اسٹیشن میں تھی جو پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا۔ ایک دن انگورا نے اسے اس لڑکے کے بارے میں بتایا جس سے وہ ریلوے کے ایک متروک کوارٹر میں ملا کرتی تھی اور اب وہ کچھ ہی دنوں میں اس لڑکے کے ساتھ بھاگنے والی ہے۔ اس کا چچازاد اس سے کہتا ہے کہ وہ اپنے باپ کو اس لڑکے کے بارے میں بتا دے، ممکن ہے وہ دونوں کی شادی کے لیے راضی ہو جائیں۔ انگورا نے بتا یا کہ اس کا باپ اس کے لیےکبھی راضی نہ ہوگا کیونکہ اس لڑکے پر کئی خون کے الزام ہیں اور پولس ہمیشہ اس کی تلاش میں رہتی ہے۔ چچازاد اس لڑکے سے ملنے سے منع کرتا ہے تو انگورا نےجواب دیا کہ وہ ایک ایسے باپ کی بیٹی ہے جس کے بازو پر اس کی رکھیل کا نام گدا ہوا ہے۔